”پرویز ملک کمال آدمی تھے۔۔“

Najam Wali Khan, Pakistan, Naibaat newspaper,e-paper, Lahore

پرویز ملک، مسلم لیگ نون لاہور کے صدر تھے اورلاہور سے ہی منتخب رکن اسمبلی۔ اس شہر میں عشروں سے صحافت کرنے کی وجہ سے ان سے اتنا پرانا تعلق رہا کہ اب یاد بھی نہیں آتا کہ پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔ میں انہیں جب بھی دیکھتا، ان سے بات ہوتی تو یہ نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو والا محاورہ یاد آجاتا۔ نواز لیگ نے پرویز مشرف کا دور بھی گزارا اور اسی طرح کا دور اب گزار رہی ہے۔ یہ مسلم لیگ نون کے لئے چوہدری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ میں ایک بڑا دھچکا تھا کہ چوہدری صاحب، نواز لیگ لاہور کے صدر کو ہی لے اڑے تھے، وہ قاف لیگ میں شامل ہو گئے تھے۔اس کا بہت بڑا نقصان یہ ہوا تھا کہ لاہور میں سب سے مقبول ہونے کی دعوے دار سیاسی جماعت اپنی ہی ہوم گراونڈ پر دفتر تک سے محروم ہو گئی تھی جس کے بعد نواز لیگ کے لئے لاہور کی صدارت کا فیصلہ بہت اہم ہو گیا تھا۔ لاہور کا صدر ایسا بندہ ہونا چاہئے تھا جو اپنے کردار اور کمٹ منٹ میں پختہ ہو۔ بہت سارے لوگ یہ سوال کرتے تھے کہ پرویز ملک پر کیسے اعتماد کر لیا گیا کہ ان کے بھائی جسٹس ریٹائرڈ قیوم تھے۔ جی ہاں، وہی جسٹس قیوم جن کا نام آج بھی مسلم لیگ نو ن کے مخالفین نوے کی دہائی کے مخصوص پیرائے میں بیان کرتے ہیں مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ جسٹس (ر) قیوم بھی پرویز مشرف کے ساتھ مل گئے تھے۔ جسٹس قیوم اگست 2007 میں پرویز مشرف حکومت کے اٹارنی جنرل مقرر کئے گئے تھے اور تقرری کے بعد ان کا پڑھا ہوا نعتیہ شعر بہت مقبول ہوا تھا، ’یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے‘۔ سو یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب نواز شریف کے پاس لاہور جیسے شہر میں صدر کی بے وفائی کا تلخ تجربہ ہوچکا تھا اور خود پرویز ملک کے بھائی پرویز مشرف کے اٹارنی جنرل رہ چکے تھے توان کا چناو نواز شریف کے لئے ایک رسک تھا مگر برس ہا برس پرویز ملک کو قریب سے دیکھنے کے بعد میں یہ گواہی دے سکتا ہوں کہ نواز شریف جنہوں نے ذاتی، سیاسی اور حکومتی سطح پر بندوں کو پرکھنے اور چننے میں بہت ساری غلطیاں کیں، وہ پرویز ملک کے انتخاب میں ’سو بٹا سو‘نمبر لے گئے۔

پرویز ملک کی شخصیت کی واحد خوبی یہ نہیں تھی کہ وہ بیرون ملک سے پڑھے ہوئے تھے اور نہ ہی یہ تھی کہ ایک مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، ان کی لاہور کے حلقوں میں مقبولیت اور احترام کی وجہ ان کا اس شہر کی مقبول ترین پارٹی کا صدر ہونا بھی نہیں تھا بلکہ ان کا ذاتی کردار اور اخلاق تھا۔ یقین کیجئے میں نے سیاسی لوگوں میں ایسے منافقت سے پاک، حقیقی اخلاق کے مالک بہت کم لوگ دیکھے ہیں۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ ان کو جو بھی میسج کرتا تھا وہ اس کا جواب ضرور دیتے تھے اور جو فون کرتا تھا اگرا س کی فون کال اٹینڈ نہ ہوسکے تو چاہے رات بارہ بجے ہی فارغ کیوں نہ ہوں، رنگ بیک کرتے تھے۔ جب وہ وفاقی وزیر تھے تو اس وقت بھی اپنا فون خود ہی اٹینڈ کرتے تھے۔ وہ بولنے میں دھیمے اور مدلل تھے، وہ مغرور،بڑبولے اور بڑھک باز نہیں تھے جیسا کہ عام طور پر سیاسی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ ماضی کے تجربے کے پیش نظر ان کا خواجہ عمران نذیر کے ساتھ مل کرکارنامہ یہ بھی رہا کہ اس نے خیرخواہوں کی مدد سے پارٹی کو ایک ایسا دفتر بنا کر دے دیا ہے جو اب اس کی قانونی ملکیت ہے۔

 سچ پوچھیے تو پرویز ملک کا خاندان ایک شاندار اورا ٓئیڈیل خاندان ہے۔ آپا شائستہ پرویز ملک اپنے اخلاق اور کردار میں ایک مثالی خاتون ہیں۔ ان کے صاحبزادے احمد پرویز سٹی فارٹی ٹو پر ہی پروگرام کرتے تھے تو ان سے اکثر ملاقات ہوجاتی تھی، بہت سافٹ اورسلجھا ہوا نوجوان ہے۔ علی پرویز ملک، لاہور سے رکن قومی اسمبلی ہیں اور بہت مقبول ایم این اے ہیں۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ایک طرف جسٹس قیوم تھے اور دوسری طرف ان کی ہمشیرہ کا تعلق پیپلزپارٹی سے وابستہ بڑے گھرانے سے تھا مگر انہوں نے مشکل ترین وقت میں بھی وفا نبھائی۔ اب اطلاعات ہیں کہ ان کی وفات سے خالی ہونے والے حلقے میں شائستہ آپا کو ٹکٹ دی جا رہی ہے جو بہترین انتخاب ہوسکتا ہے کہ مقابلہ جمشید اقبال چیمہ سے ہے جو حکومتی پارٹی کے ایک پوٹینشل کینڈیڈیٹ ہیں۔ شائستہ آپا وہ اس وقت خواتین کی نشست پر رکن قومی اسمبلی ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جیت کرمخصوص نشست خالی کر دیں گی اور لاہور کینٹ سے نوازلیگ کی کارکن شکیلہ لقمان ایم این اے بن جائیں گی۔ ا س ٹکٹ کے حقدار نصیر بھٹہ بھی قراردئیے جاتے ہیں اور ایک مضبوط امیدوار عطا تارڑ بھی ہیں۔ تادم تحریر نواز لیگ کی طرف سے امیدوار کی نامزدگی نہ ہونا حکومتی پارٹی کو واک اوور دے رہی ہے جو دھوم دھڑکے سے انتخابی مہم شروع کر چکی ہے۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم بھی پرویز ملک کے بھائی ہیں اور ان کا اخلاق اور رویہ بھی مثالی ہے، وہ لاہور کے ہیلتھ رپورٹروں کے جگر جان ہیں۔ وہ اس سے پہلے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے علاوہ پمز اسلام آباد کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ پرویز ملک کا ایک تعارف بطور کاروباری شخصیت بھی تھا اور لاہور چیمبر کے تعاون سے’لبارڈ‘ جیسی تنظیم کے سربراہ کے طورپر بھی۔ یہ تنظیم معذوروں افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتی ہے اور ہزاروں معذور لوگوں کے لئے وہیل چئیرز کی فراہمی سمیت دیگر امور میں امداد کا ذریعہ بن چکی ہے۔ 

مسلم لیگ نون کو این اے 133 کے الیکشن علاوہ لاہور کی صدارت کا مسئلہ بھی درپیش ہو گا۔پرویز ملک   نے مشکل ترین وقت میں لاہور کو نواز لیگ کا گڑھ بنائے رکھنے میں اہم ترین کردارادا کیا۔ اب شنید ہے کہ یہ ذمے داری سیف کھوکھر کے پاس جا سکتی ہے کہ مریم نواز کا ووٹ مبینہ طور پر ان کے حق میں ہے اور دوسری طرف مجتبی شجاع الرحمان کا نام بھی اہم ہے کہ نواز لیگ کو ایک بڑا خاندان بھی چاہئے جو پیسے والا بھی ہوکہ سیاست غریب کے بس کی بات ہی نہیں رہ گئی۔ ایک تجویز یہ بھی رہی کہ لاہور کی صدارت کوپنجاب کی صدارت کے برابر کر کے حمزہ شہباز کو یہ ذمے داری دے دی جائے مگر سننے میں آیا ہے کہ انہوں نے اس تجویز کو پسند نہیں کیا۔ اسی طرح نام رانا مشہود احمد خان کا بھی زیر غور ہے مگر ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ لاہور کے بہت سارے کارکن ان سے نالاں ہیں۔ کچھ پارٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت لاہور کی انتظامی تقسیم کرتے ہوئے اسے دو حصوں میں تقسیم کر رہی ہے لہذا اب لاہور کے دو صدر اور دو جنرل سیکرٹری ہوں گے سو تجویز یہ بھی ہے کہ اس وقت تک یونہی کام چلایا جائے، پارٹی کے پاس ایک محنتی اور کمٹڈ جنرل سیکرٹری موجود ہے اور باقی احکامات توجاتی امرا سے ہی آنے ہیں۔اس تذکرے کا مطلب یہ ہے کہ پرویز ملک کی اچانک وفات نے پارٹی کوواقعی مشکل میں ڈال دیا ہے، ان جیسا ہمہ جہت اور ہمہ صفت بندہ ڈھونڈنا مشکل ہو رہا ہے۔ ان کی نماز جنازہ ان کے اخلاق، کردار اور مقبولیت کی گواہی دے رہی تھی جس میں ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے حق میں دعائیں قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین۔