عدالتیں کام کر رہی ہیں؟

عدالتیں کام کر رہی ہیں؟

جب جرمن لندن پر بمباری کر رہے تھے تو وزیراعظم ونسٹن چرچل کو جانی اور معاشی نقصان سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے پوچھا، کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں؟ جب بتایا گیا کہ جج معمول کے مطابق انصاف کر رہے ہیں، چرچل نے جواب دیا، خدا کا شکر ہے، اگر عدالتیں کام کر رہی ہیں تو کچھ بھی غلط نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ روز کسٹم کیس کے سلسلہ میں محکمہ کی وکالت کرنے کے لیے کراچی جانا پرا۔ کراچی کے حوالے سے سوشل میڈیا اور سیاسی تقریروں میں جو صورت حال ہے میرے خیال سے کراچی کے حالات اس قدر خراب نہیں جس کا تاثر دیا جاتا ہے۔ سب اختیارات کے حصول کی کہانی ہے۔ لاہور مال روڈ پچھلے دو ہفتوں سے ریگل چوک میں دھرنے کی وجہ سے شہر کی ٹریفک کا بُرا حال ہے اگر یہی صورت حال کراچی میں ہوتی تو زرداری صاحب کو تنقید کے کٹہرے میں لایا جاتا۔ کراچی کسٹم ٹربیونل میں مجھے ڈاکٹر جناب نوید الحق کے ٹربیونل بنچ میں مقدمہ کی پیروی کرنا تھی۔ بہرحال وہاں سے فارغ ہو کر ایک دوست کی بھیجی ہوئی گاڑی جسے (پیشہ ور ڈرائیور نہیں) ایک دوست فرحان چلا رہا تھا۔ شہر میں کھانا کھانے اور دیگر کاموں کے لیے چند جگہوں پر جانا ہوا۔ فرحان لاڑکانہ کا رہائشی ہے لہٰذا سیاسی سوجھ بوجھ میں خود کفیل اور زبردست دلائل کے ساتھ ہر موضوع پر سیاسی تجزیہ کرتا چلا گیا۔ راستے میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، بلا ول بھٹو، زرداری صاحب اور شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید کی تصویروں کے بینرز پکڑے لوگ اپنے مطالبات لیے کھڑے تھے، ویسے بلاول بھٹو یا زرداری کے مخالف ملیریا سے جاں بحق ہونے والوں کو ملیر میں جاں بحق کہنے اور پڑھنے کے عادی ہیں، میں وہاں پر رک گیا۔ ان کی قیادت دیدار حسین لغاری کر رہے تھے۔ معاملہ پوچھا تو ان 

کا مطالبہ تھا کہ بلاول بھٹو مداخلت کریں اور سندھ میں تمام لوگوں کو مساوی اور آئینی حقوق کے مطابق سرکاری نوکریوں پر بحال کرائیں۔ میرٹ کے مطابق تعینات کرا دیں۔ وہ کافی عرصہ سے پنجاب کے کسانوں کی طرح، بجلی کے بلوں میں اضافے کی طرح مطالبات لیے پھر رہے ہیں، میں ان کے پاس کچھ دیر رُکا اور اندازہ کیا کہ پیپلز پارٹی آج بھی سندھ میں مقبول ترین جماعت ہے۔ بلاول بھٹو ان کی امید ہیں اور کچھ ملے نہ ملے مگر وہ پیپلز پارٹی کو شعوری طور پر پیپلز پارٹی کی لازوال جمہوری جدوجہد کے معترف ہیں۔ میرے دوست عدنان یونس اور ذکا اللہ کسٹم آفیسرز مجھے کہنے لگے کہ آپ ان کی مدد کریں اور ان کی آواز بلاول بھٹو یا زرداری صاحب تک پہنچائیں۔ میں نے کہا، کوشش کریں گے۔ پھر میں نے نہال صاحب سے رابطہ کر کے ان کو درخواست، ویڈیوز پہنچا دیں۔ وہ زرداری صاحب کے قریبی قابل بھروسہ پارٹی ورکر ہیں۔ یہ روداد لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وطن عزیز کے عوام مختلف مسائل کا شکار ہیں اوپر سے سیلاب اور مہنگائی اور عمران نیازی کی اقتدار کے لیے بے صبری نے باندھ رکھا ہے۔ چرچل نے پوچھا تھا، عدالتیں کام کر رہی ہیں؟ اور حالت جنگ میں پوچھا تھا جواب اثبات میں آیا تھا اگر ہمارے ہاں پوچھا جائے کہ عدالتیں کام کر رہی ہیں تو کیا جواب آئے گا؟ یقینا ونسٹن چرچل کا مقصد تمام عدالتیں تھا جس میں ماتحت عدلیہ کا زبردست کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ چرچل نے یہ سوال سیاسی قیادت کی اعلیٰ کارکردگی پر اطمینان کے بعد ہی کیا ہو گا کیونکہ عدالتوں کا واسطہ براہ راست لوگوں میں انصاف کی فراہمی سے ہوتا ہے لہٰذا انصاف پر مبنی معاشرہ کبھی مفلوج نہیں ہوتا ہمیشہ ترقی کرتا ہے۔ اگر چرچل کو جواب ملتا کہ جناب عدالتیں کام تمام کر رہی ہیں تو اس کی حالت کیا ہوتی؟ عدالتوں کا معاملہ چھوڑتے ہیں ہماری سیاسی قیادت، بیورو کریسی، مذہبی شعبہ، سول سوسائٹی، میڈیا کے لوگوں کو عوام کے دکھوں کا ازالہ کرنا چاہئے، ان کے درد کا مداوا بننا چاہئے۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں، معاشرت بکھر چکی ہے کہ اس کو صرف اور صرف قانون کی حکمرانی ہی ایک قوم کی صورت گری دے سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے کالم چرچل کے سوال سے شروع کیا۔ سیاسی قیادت خاص طور پر سینئر قیادت اپنا اعتماد کھو چکی اب نئی قیادت کو یہ خلا پُر کرنا ہو گا۔ بڑی سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی میں بلاول بھٹو، ن لیگ میں مریم نواز سے امید کی جا سکتی ہے۔ رہے عمران خان وہ تو خود کہتے ہیں میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔ آئین، قانون، روایت ان کی نظر میں بے معنی چیزیں ہیں جبکہ وطن عزیز کو آئین کی حکمرانی، آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ کا کردار درکار ہے جو سیاسی، معاشی، سماجی اور معاشرتی استحکام کا بھی ضامن ہو گا۔ ابھی کالم یہاں تک پہنچا تھا کہ ٹی وی پر خبر آ گئی کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں نا اہل قرار پائے۔ کرپٹ پریکٹس کے مرتکب قرار پائے۔ اس سے پہلے سید یوسف رضا گیلانی، میاں نوازشریف و دیگر نا اہل قرار پائے مگر ان کو نا اہل قرار دینے والی عدالت سپریم کورٹ نے نا اہل کیا تھا جس کے خلاف اپیل بھی نہیں ہوتی جبکہ عمران کو الیکشن کمیشن نے خائن اور کرپٹ قرار دے کر نا اہل قرار دیا ہے اس کے خلاف اپیل کا حق باقی ہے۔ عمران خان نے بڑی محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے اگر اس مقدمہ کا فیصلہ پی ٹی آئی کے کسی دوسرے لیڈر کے خلاف بھی آتا تو اس کے علاوہ کچھ اور نہ ہوتا۔ بہرحال الیکشن کمیشن نے فیصلہ کر دیا اوپر کی عدالتوں میں اپیل پر حتمی فیصلہ باقی ہے۔ دیکھتے ہیں میاں نوازشریف، سید یوسف رضا گیلانی و دیگران والا سلوک ہوتا ہے یا سوشل میڈیا کے ڈر سے کوئی اور فیصلہ آتا ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد عمران خان کی یہ دوسری دعا قبول ہوئی ۔ عمران نا اہل تھے لہٰذا قرار دے دیئے گئے اور انہوں نے ثابت بھی کیا۔ اب چور مچائے شور والا معاملہ شروع ہو گا۔