چین میں 350کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ترین ٹرین سروس کا آغاز

چین میں 350کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ترین ٹرین سروس کا آغاز

بیجنگ:ایک ایسی برق رفتار پاکستان میں بھی آ سکتی ہے،چین میں دنیا کی تیز ترین بلٹ ٹرین سروس کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔ہوسکتا ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو چین میں ایسی ٹرینیں ٹریک پر دوڑنے لگی ہیں 350 کلو میٹر فی گھنٹہ (217 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے دوڑ سکیں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق چین میں اس ٹرین سروس کا آغاز شنگھائی اور بیجنگ کے درمیان کیا گیا ہے اور یہ 1318 کلو میٹر کا فاصلہ 4 گھنٹے 28 منٹ طے کریں گی۔


فیوشنگ نامی ٹرین کو سب سے پہلے جون میں متعارف کرایا گیا تھا اور چینی خبررساں ادارے کے مطابق ویسے تو یہ ٹرینیں 350 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کریں گی، تاہم یہ اس سے بھی تیز بھی چل سکتی ہیں اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 400 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔اس سے قبل چین میں 350 کلو میٹر فی گھنٹہ والی ٹرین چل چکی ہے تاہم 2011 میں دو ٹرینوں کے درمیان ٹکراﺅ سے 40 افراد کی ہلاکت کے بعد ان کا استعمال ختم کردیا گیا تھا۔

تاہم اب نئی ٹرین میں مسافروں کے تحفظ کے لیے ڈھائی ہزار سے زائد سنسرز نصب کیے گئے ہیں جو کہ تمام بوگیوں سے منسلک ہیں اور مختلف مسائل جیسے اے سی بند ہوجانا یا دیگر، پر خودکار طور پر الارم بجا کر ٹرین کو روک دیتے ہیں۔واضح رہے کہ چین میں اب تک تیز ترین ٹرینوں کے لیے

20 ہزار کلومیٹر سے زائد ٹریک بچھایا جاچکا ہے اور 2020 تک اس میں مزید دس ہزار کلومیٹر کے اضافے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

چین نے ان ٹرینوں کے لیے 360 ارب ڈالرز کا خرچہ کیا ہے۔چین کی ٹرین اتنی ہے کہ رفتار کے معاملے میں اس نے ہائپر لوپ ون نامی مستقبل کے سفری سسٹم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جس نے رواں سال کے شروع میں 380 کلو میٹر فی گھنٹہ کے اسپیڈ ریکارڈ تک رسائی حاصل کی تھی۔