کیا نواز شریف کی سیاست ختم ہو گئی؟

کیا نواز شریف کی سیاست ختم ہو گئی؟

لاہور :پروگرام لائیو ود نصراللہ ملک میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا شریف خاندان کو چاہیے تھا کہ وہ سیاست سے دور ہو جاتے مجھے لگتا ہے کہ شریف خاندان عدالتوں میں پیش نہیں ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف ہی ہونگے لیکن وہ فوری پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔پاکستان میں مینڈیٹ پارٹی کو نہیں شخصیات کو دیا جا تا ہےجب تک تازہ مینڈیٹ نہیں آ جاتا ملک کشمکش کا شکار رہے گا۔


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف کی ہدایت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔انہوں نےمزید کہا کہ مسلم لیگ ن اس وقت مشکل میں ہےمگر شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف سے بغاوت نہیں کر سکتے۔ پانچ سال تک ملک کی ساری سیاست بدل جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور نواز شریف بوڑھے ہو چکے ہیں اگر عمران خان وزیراعظم بن بھی گئے تو ایک ہی باری کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے شہباز شریف اور ذرداری بھی تقریبا بوڑھے ہو چکے ہیں۔ نواز شریف نے بچوں کو باہر بھیج کر سیاست سے دور رکھا مگر مریم نواز کو اپنے ساتھ رکھ کر سیاست کے لیے تیار کیا وہ تقریبا پانچ سے چھ گھنٹے نواز شریف کے ساتھ رہتی ہیں۔

 تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے کہا نواز شریف اپنے بھائی کو ن لیگ کی صدارت دینے کو تیا ر نہیں ہیں،نواز شریف اگر مقدمات کا سامنا نہیں کرینگے تو بزدل کہلائیں گے۔سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ جلد منظر عام پر آ جائے گی۔ حکومت کو چاہیئے کہ جلد الیکشن کا اعلان کر دیں،شریف خاندان نےسپریم کورٹ میں جعلی کاغذات جمع کر وائے۔مریم نواز سیاسی حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتیں کیونکہ اس میں جیلیں کاٹنی پڑتی ہیں۔

مسلم لیگ ضیا ء کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا ملکی تاریخ میں پہلی بار منتخب وزیرعظم کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ۔نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی محنت سے کام کر رہے ہیں مگر نواز شریف مقدمات کا سامنا نہیں کریں گے تو ان کئے لیے مشکلات ہونگی۔ حکومت کو آئین و قانون پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سسٹم کو بچانا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ الیکشن کرادیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ نون لیگ کے 67 ایم این ایز اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھے اور اشارے کا انتظار کر رہے تھے۔ 

مکمل پروگرام دیکھیئے