کراچی پولیس کے خودکار ہتھیار تبدیل کرنے کا حکم

کراچی پولیس کے خودکار ہتھیار تبدیل کرنے کا حکم
پبلک مقامات پر خودکار ہتھیار کی نہ نمائش کی جائے نہ کسی پر تانا جائے، پولیس چیف کی ہدایت

کراچی: کراچی پولیس چیف امیرشیخ نے پولیس کے خودکار ہتھیاروں کو تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس کی جانب سے خودکار اسلحہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔ پولیس کی جانب سے اتفاقیہ گولی چلنے سے جانی نقصانات ہوئے ہیں اور اب خودکار ہتھیاروں کے بجائے پولیس اسکواڈ کے پاس ریوالور ہوں گے۔


اس حوالے سے کراچی پولیس چیف امیر شیخ نے اسکواڈ ڈیوٹی، پٹرولنگ، پکٹس، مددگار 15 اور موٹرسائیکل اسکواڈ کا اسلحہ فوری تبدیل کرنے کی ہدایت کر دی۔

پولیس چیف امیر شیخ نے ہدایت کی کہ موٹرسائیکل اسکواڈ کو سب مشین گن کی جگہ پستول یا ریوالور جبکہ ڈیوٹی، پولیس پٹرولنگ، پکٹس پوائنٹس پر ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں اور مددگار 15 موبائل کو خودکار اسلحہ اور ایک پستول دیا جائے۔

انہوں نے پولیس اہلکاروں کو یہ ہدایت بھی کی کہ پبلک مقامات پر خودکار ہتھیار کی نہ نمائش کی جائے نہ کسی پر تانا جائے۔

واضح رہے گزشتہ ماہ 13 اگست کی شب کراچی میں ڈیفنس موڑ کے قریب اختر کالونی سگنل پر مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ملزم کے ساتھ ساتھ جائے وقوع پر موجود گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی 10 سالہ بچی امل بھی جاں بحق ہو گئی تھی۔

رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ امل کی موت پولیس اہلکار کی گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس واقعے کا چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بھی نوٹس لے رکھا ہے۔