فلم کا نام تبدیل کرنے کے باوجود سلمان کے خلاف مقدمہ درج

فلم کا نام تبدیل کرنے کے باوجود سلمان کے خلاف مقدمہ درج
image by facebook

ممبئی :رواں ماہ 13 اگست کو بھارتی ریاست بہار کی ایک عدالت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ بولی وڈ دبنگ ہیرو سلمان خان سمیت ان کی آنے والی فلم ‘لو راتری’ کے دیگر اداکاروں اور اسٹاف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔


بھارتی ریاست بہار کے شہر مظفرآباد کی ایک مقامی عدالت نے وکیل سدھیر اوجھا کی درخواست پر سماعت کے بعد پولیس کو حکم دیا تھا کہ اداکار اور دیگر ارکان کے خلاف ہندؤوں کے جذبات مجروح کرنے اور فرقہ وارانہ ماحول بنانے جیسی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

عدالت میں درخواست دائر میں الزام عائد کیا گیا تھا , سلمان خان کی ہوم پروڈکشن کی جانب سے بنائی گئی فلم ‘لو راتری‘ ہندؤوں کے مذہبی تہوار ‘نوراتری’ کو غلط انداز میں پیش کرنے پر بنائی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک نوجوان لڑکے کو ایک نوجوان لڑکی سے ‘نو راتری‘ کے تہوار پر پیار ہوجاتا ہے، علاوہ ازیں فلم کا نام بھی مذہبی دن کے نام سے متاثر ہوکر رکھا گیا ہے۔

وکیل نے درخواست میں الزام عائد کیا کہ فلم کی ٹیم فلم کی تشہیر کے دوران بھی نوراتری کو تہوار غلط طور پر پیش کر کے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عدالت نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پولیس کو سلمان خان سمیت فلم کے مرکزی ہیرو، ہیروئن اور اداکار سمیت 76 افراد کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حکم دیا تھا , عدالتی فیصلے کے بعد اگرچہ سلمان خان نے فلم کا نام ‘لو راتری’ سے بدل کر ‘لو یاتری’ بھی کردیا تھا، تاہم پھر بھی ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا۔

نشریاتی ادارے کے مطابق عدالتی حکم کے بعد مظفرآباد کے متھن پور پولیس تھانے میں اداکار سمیت ‘لو راتری’ ٹیم کے دیگر ارکان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا۔

سلمان خان کے خلاف بطور فلم پروڈیوسر مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جب کہ فلم کے مرکزی ہیرو آیوش شرما، اداکارہ ورینا حسین، ہدایت کار ابھی رام مناوالا، کریکٹر آرٹسٹ رام کپور اور رونت رائے سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔

مقدمہ درج ہونے سے 2 دن قبل ہی سلمان خان نے ٹوئیٹ کے ذریعے فلم کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم پھر بھی ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا۔

خیال رہے کہ فلم کی کہانی ریاست گجرات کے لڑکے اور لڑکی کی محبت کے درمیان گھومتی ہے ، ان دونوں کے درمیان ہندؤوں کے مذہبی تہوار ‘نو راتری’ کی تقریبات کے دوران پیار پروان چڑھتا ہے، جس وجہ سے ہی فلم کا نام اس دن کے نام سے ملتا جلتا رکھا گیا ہے۔

فلم کو آئندہ ماہ 5 اکتوبر کو ایک ایسے موقع پر ریلیز کیے جانے کا امکان ہے، جب کہ نو راتری کا تہوار 4 دن بعد شروع ہوگا۔