تعلیمی ادارے بتدریج کھول دیئے جائیں گے، شفقت محمود

تعلیمی ادارے بتدریج کھول دیئے جائیں گے، شفقت محمود
سکول کھولنے کے لئے سندھ نے 7 روز تک صورتحال کا جائزہ لینے کا کہا ہے، شفقت محمود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے تعلیمی ادارے بتدریج کھول دیئے جائیں گے کیونکہ گزشتہ چھ ماہ سے تعلیمی ادارے کورونا وائرس کی وجہ سے بند تھے اور اس وجہ سے بچوں کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے، حکومت نے اب صورتحال کو دیکھتے ہوئے بتدریج اسکول کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ  فیصلہ صوبوں کی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔


ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا میں کل سے چھٹی تا آٹھویں جماعت کی کلاسیں شروع ہوں گی جبکہ بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں چھٹی تا آٹھویں جماعت کی کلاسیں شروع ہوں لیکن سندھ نے ابھی اسکول کھولنے کا فیصلہ نہیں۔ اگر سندھ نے 7 روز تک صورتحال کا جائزہ لینے کا کہا ہے تو وہ پھر اس کے بعد جو فیصلہ ہو گا وفاقی حکومت ان کے ساتھ ہو گی۔ تاہم بہتر ہوتا تمام صوبے ایک ہی وقت میں اسکول کھولنے کا فیصلہ کرتے۔ 

شفقت محمود نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کئی اسکول اس لیے بند کیے گئے کیونکہ انھوں نے ایس او پیز پرعمل نہیں کیا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ ملک بھر میں اسکول کھلنے کے بعد گزشتہ ایک ہفتے میں کورونا کیسز میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی گزشتہ ہفتے کورونا کیسز کی شرح میں پہلے سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔ تاہم اب کورونا کی موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کل سے چھٹی سے آٹھویں کلاسز کو کھولا جائے۔ 

خیال رہے کہ اس سے قبل اسد عمر کی زیر صدارت اسلام آباد میں این سی او سی اجلاس میں کل سے مڈل تک کلاسز کا تدریسی عمل شروع کرنے کی اجازت دیدی گئی۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں چھٹی سے آٹھویں کلاسز کل سے شروع ہوں گی لیکن سندھ حکومت کا 28 ستمبر سے مڈل اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے حکومتی پالیسی اور این سی او سی کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے سندھ کی متضاد پالیسی کو تعلیم دشمنی قرار دیدیا ۔