سیف سٹی عوام کے تحفظ کے لیے کوشاں

سیف سٹی عوام کے تحفظ کے لیے کوشاں

عوام کہیں کے بھی ہوں چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں بغیر کسی خوف کے گھومیں، کسی قسم کی بدعنوانی اس ملک میں نہ ہو اور اس ملک کی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والوں کو پورا پورا تحفظ فراہم کریں عوام کی انہی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب میں چند سال پہلے ایک پروجیکٹ لگایا گیا جو سیف سٹی پروجیکٹ کے نام سے متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ پروجیکٹ وزیراعلیٰ پنجاب جو کہ موجودہ وقت میں وزیراعظم پاکستان ہیں میاں شہباز شریف نے شروع کیا کیونکہ اس میں عوام کا تحفظ بہت اہمیت کا حامل ہے اس پروجیکٹ کو اگر دیکھا جائے جب یہ منظور ہونے جا رہا تھا اس وقت بھی اس پر بہت سیاست کی گئی کیونکہ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ میں سے پیسہ کھایا جائے گا مگر آج کل کے دور میں اگر نظر دوڑائی جائے تو عوام کے تحفظ کو مزید بہتر بنانے کے لئے سیف سٹی پروجیکٹ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

پنجاب میں سیف سٹی پروجیکٹ 16 ارب کی لاگت سے تعمیر کرایا گیا جو کہ اسلام آباد سیف سٹی پروجیکٹ سے 5 گنا بڑا پروجیکٹ ہے جس میں مختلف اقسام کے 8 ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے گئے جن کی مدد سے شہر میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں محرم الحرام کو یا 12 ربیع الاول کا جلوس سیف سٹی کے ذریعے سخت سے سخت ٹاسک کو بھی کامیاب بنایا جاتا ہے جب سے سٹی پروجیکٹ بنا تو اس پروجیکٹ کو مزید بہتر بنانے کے لئے یہاں پر چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ڈی آئی جی محمد کامران خان کو تعینات کیا گیا جن کے سائے تلے اس وقت سیف سٹی دن بدن ترقی کر رہا ہے اور محمد کامران خان کا خیال ہے کہ جب ایک آفیسر کسی ڈیپارٹمنٹ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہوتا ہے تو اس کو اپنے کام میں اتنی دلچسپی ہونی چاہیے اور اپنے دور میں اس ادارے کو چار چاند لگا دے اور ایسے کام کر جائے کہ اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے اپنی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے دبئی ایکسپو میں بھی نوکیا کمپنی کے ساتھ ایک ایم او یو سائن کیا گیا جس میں سمارٹ پارکنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے بہت جلد اور ساتھ ہی ساتھ خواتین کے تحفظ کو مزید بہتر بنانے کے لئے جو وویمن سیفٹی ایپ متعارف کرائی گئی وہ بھی قابل تعریف ہے درحقیقت اگر دیکھا جائے تو ایک گھر کا جو سربراہ ہوتا ہے وہ جب محنت کرتا ہے تو ایک خوبصورت اور پائیدار گھر کو تعمیر کر دیتا ہے اسی طرح ایک اعلیٰ عہدیدار ہوتا ہے وہ اپنے ادارے کا اہم اثاثہ ہوتا ہے جب وہ محنت کرتا ہے تو سب کچھ بہتر ہوتا ہے اور وہ ادارہ ہمیشہ ترقی کرتا ہے جب میں نے پروگرام کیا سیف سٹی میں تعینات چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب محمد کامران خان اور آپریشن کمانڈر پی پی آئی سی تھری ایس پی عاصم جسرا کے ساتھ تو بہت خوشی ہوئی جب میں نے ان میں اپنے ادارے کے لیے وفاداری دیکھی اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم اس ادارے میں مزید بہتری کریں اور جس طرح سے ایک ٹیم بنا کر یہ لاہور اور پنجاب کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، قابل تعریف ہے میں ان کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔

جب میں نے اپنے پروگرام کے سلسلے میں سیف سٹی کا رخ کیا تو وہاں جا کر معلوم ہوا ہمارے معاشرے میں آج بھی وہ لوگ موجود ہیں جو فضول قسم کے پروپیگنڈے کرتے ہیں جس میں سے ایک پروپیگنڈہ یہ تھا کہ اس پروجیکٹ کے خلاف کہ سیف سٹی کے بہت سے کیمرے خراب ہیں اور کہا جا رہا تھا کہ حکومت کا لگایا ہوا پروجیکٹ ڈوب گیا ہے تو میں نے اپنی آنکھوں سے اس دفتر میں جا کر جب لاہور میں جگہ جگہ کے مناظر دیکھے تو انتہائی افسوس ہوا اور ان لوگوں پر جو اس پروپیگنڈے میں شامل تھے اور بے بنیاد خبریں سوشل میڈیا پر پھیلا رہے تھے، جن کا نہ سر ہے نہ پاؤں ہے خدارا ایسے بیانات سے گریز کریں اور ترقی والے کام میں خلل پیدا نہ کریں۔

اس پروجیکٹ کو لگانے کے دو ہی مقاصد تھے تھانہ کلچر کو تبدیل کرنا جو کہ موجودہ وقت کی اہم ضرورت تھی اور دوسرا کیمروں کی مدد سے شہر کی مانیٹرنگ کو یقینی بنانا اس پروجیکٹ کے تحت شہر بھر میں ٹریفک مینجمنٹ سسٹم پاکستان میں پہلی بار متعارف کرایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مواصلاتی رابطے کا جدید ترین نظام جو کہ فور جی ایل ٹی ای ٹیکنالوجی ہے استعمال کیا جا رہا ہے پولیس کے گشت کرنے والی گاڑیوں پر بھی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جن کی مدد سے ان کی موجودگی کی اطلاع اور ان کے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے احتساب کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دوران آپریشن پولیس کے پاس موجود فورجی ہینڈ سیٹ کے ذریعے آپریشن کمانڈر کو موقع کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہ پروجیکٹ صرف دن میں ہی نہیں بلکہ رات میں بھی کام کرتا ہے کیونکہ اس پروجیکٹ میں نصب تمام تر کیمرے نائٹ ویژن ٹیکنالوجی کے حامل ہے جو کہ مکمل تجربے کے بعد اہم مقامات پر لگائے گئے ہیں۔ سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت پولیس فورس کو جدید بنانے کے لیے پنجاب حکومت نے بھی پہل کی ہے جو کہ پولیس کلچر میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ سیف سٹی پروجیکٹ پنجاب میں انسداد دہشت گردی، ہنگامی ردعمل، ٹریفک مینجمنٹ سروسز اور جرائم میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

دنیا میں جہاں بھی سیف سٹیز پروجیکٹ لگائے گئے ہیں وہاں پہلے سال میں 25 سے 30 فیصد جرائم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ کمی بڑھتے ہوئے 60 سے 65 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ سیف سٹیز پروجیکٹ کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے سیف سٹی پروجیکٹ نہ صرف لاہور قصور میں لگایا گیا ہے بلکہ پنجاب کے 6اضلاع میں اس طرز کے پروجیکٹ لگائے جا رہے ہیں جن میں فیصل آباد، راولپنڈی، بہاولپور، ملتان، گوجرانوالہ اور سرگودھا شامل ہیں۔ قصور سیف سٹی پراجیکٹ پر 480سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو کہ آپٹیکل فائبر کے ذریعے لاہور سیف سٹی پراجیکٹ کے ساتھ منسلک ہے۔ قصور کو لاہور میں بیٹھ کر بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے البتہ قصور ڈی پی او آفس میں کنٹرول روم قائم ہے جس میں عملہ کام جاری رکھے ہوئے ہے۔اس سال بجٹ میں حکومت پنجاب کی جانب سے راولپنڈی سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ لاہور میں پنجاب پولیس انٹی گریٹڈکمانڈ کنٹرول اینڈ کمیونیکشن (پی پی آئی سی تھری) سنٹر قائم کیا گیا ہے اس سنٹر میں ایشیا کی سب سے بڑی ویڈیو وال بنائی گئی جہاں سے پورا شہر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں پی پی آئی سی تھری سنٹرکے لیے 8000 ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ان میں سرویلنس کرنے والے، چاروں اطراف میں گھومنے والے، گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھنے والے، رات کے اندھیرے میں اچھی اور صاف تصویر دینے والے، فیس ریکگنائزیشن کیمروں کے علاوہ، پی آر یو، پولیس تھانوں کی گاڑیوں میں کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو کہ مختلف کاموں کو سرانجام دینے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔

خراب کیمروں کے حوالے سے بات کی جائے تو کیمروں کی درستی اور خرابی کا عمل جاری رہتا ہے خراب ہونے والے کیمروں کو جلد سے جلد درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے گزشتہ کچھ عرصہ میں نجی کمپنی جس نے پراجیکٹ لگانے کا کنٹریکٹ لیا تھا جس کے ذمہ کیمروں کو درست حالت میں رکھنا بھی شامل تھا فنڈز کے مسائل کی وجہ سے کام چھوڑ بیٹھی تھی جس سے دوبارہ جلد معاملات طے ہو جائینگے کیمروں کی درستی کا عمل دوبارہ بحال ہو جائیگا۔

واضح رہے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی سنٹر میں روزانہ کی بنیاد پر 30 سے 35 انوسٹی گیشن پولیس افسران ویڈیو شہادت کے حصول کے لیے آتے ہیں جن کو مطلوبہ ویڈیو شہادت یا تو فراہم کی جاتی ہے یا ویڈیو دکھائی جاتی ہے جس کے ذریعے کیسز کو جلد سے جلد حل کرنے میں مدد حاصل ہوتی ہے۔

یاد رہے جرائم پیشہ افراد بُری طرح سے قانون کے شکنجے میں آ چکے ہیں میری دعا ہے کہ ایسے پروجیکٹ اور بھی لگیں جس سے ہمارا ملک اور بھی محفوظ ہو جائے اور جس طرح سے سیف سٹی پروجیکٹ کام کر رہا ہے اگر ایسے ہی کام چلتا رہا تو کوئی بھی جرائم پیشہ افراد اپنے ناپاک عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

مصنف کے بارے میں