ٹرانسجینڈر بل پر اعتراضات

ٹرانسجینڈر بل پر اعتراضات

پاکستان میں منظور ہونے والے ٹرانسجینڈر بل پر شدید اعتراضات شروع ہو گئے ہیں اور اسے ملک پر مغربی ایجنڈے کو نافذ کرنے کی ایک کوشش قرار دیا گیا ہے۔ یہ بل گزشتہ چار برس سے مختلف مراحل سے گذر کر پاس ہوا لیکن اس پر اتنے شدید اعتراضات پہلے سامنے نہیں آئے تھے مگر اب اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد مرد سے مرد کی شادی اور عورت سے عورت کی شادی کو قانونی تحفظ مل گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بل کے منظور ہونے کے بعد وراثت اور ملکیت کے جھگڑے بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی فرد کو اپنی جنس تبدیل کرانے کا قانونی حق مل گیا ہے۔ بہت سی ایسی باتیں ہیں جو صرف سوشل میڈیا کی پھیلائی ہوئی ہیں اور اس پر غور یا فکر کرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جا رہی۔ ایک بات سامنے آئی سو عین ثواب سمجھ کر دھڑا دھڑ شیئرنگ شروع ہو جاتی ہے۔ حقائق کی بنیاد پر اس بل پر اعتراض اٹھایا جائے تو یہ معاشرے کی خدمت ہے لیکن بغیر کسی دلیل کے جب یہ کیا جائے گا تو پھر اسے لاعلمی قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

پہلی بات یہ ہے کہ یہ ٹرانسجینڈر بل ہے اور اس کا طلاق صرف ٹرانسجینڈر یا خواجہ سرا پر ہو گا۔ اس بل کے تحت خواجہ سرا کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی جنس کی شناخت کر سکتے ہیں اور اسے تبدیل کرا سکتے ہیں۔نادرا سمیت تمام سرکاری ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ خواجہ سرا اپنی جس شناخت کو چاہیں وہ ہی ان کے شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ وغیرہ پر درج کی جائے گی۔ایکٹ میں بحیثیت پاکستانی شہری ان کے تمام حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔ انھیں ملازمتوں، تعلیم حاصل کرنے اور صحت کی سہولتوں تک فراہمی کو قانونی حیثیت دی گئی جبکہ وراثت میں ان کا قانونی حق بھی تسلیم کیا گیا ہے۔خواجہ سراؤں کو کوئی سہولت دینے سے انکار اور امتیازی سلوک پر مختلف سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔اس ایکٹ میں خواجہ سرا کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تین طرح کے ہو سکتے ہیں: پہلے نمبر پر انٹر سیکس خواجہ سرا ہیں، جن کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے کہ ان میں مردوں اور خواتین دونوں کی جینیاتی خصوصیات شامل ہوں یا جن میں پیدائشی ابہام ہو۔دوسرے نمبر پر ایسے افراد ہیں، جو پیدائشی طور پر مرد پیدا ہوتے ہیں مگر بعد میں اپنی جنس کی تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر ایسے لوگ ہیں، جو پیدائش کے وقت کی اپنی جنس سے خود کو مختلف یا متضاد سمجھتے ہیں۔ اس میں دوسری تعریف  پر اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے مگر باقی معاملات تو خواجہ سرا سے متعلق ہیں۔ اس بل کو خواجہ سرا کے حوالے سے پڑھیں اور سمجھیں گے تو آپ کو محسوس ہو گا کہ یہ بل معاشرے کے اس پسے ہوئے طبقے کے حقوق کے تحفظ کا بل ہے جسے آج تک ہر قسم کے استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے مگر معاشرے میں موجود بااثر افراد کو انہیں تحفظ دینے کا چنداں خیال نہ آیا۔ چلیں اس بل اور قانون کو ایک لمحے کے لیے معطل سمجھ لیں اس کے بعد ان خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے کوئی اور بل بنا لیں جس پر سارے متفق ہوں لیکن اصل سوال تو اس طبقے کو معاشرے میں یکساں شہری کے حقوق دینا ہے۔ اس بل پر اعتراض اٹھانے والوں سے کیا یہ گذارش کی جا سکتی ہے کہ جناب اس بل میں یا تو ترامیم تجویز کریں یا اس کے مقابلے میں ایک بہتر بل لے کر آئیں لیکن سرے سے خواجہ سرا کو شہری تسلیم نہ کرنا اور ان کے حقوق کو تحفظ نہ دینے کی بات کیا قابل قبول ہو سکتی ہے؟

یہ بل چار سال قبل پارلیمان نے منظور کیا تھا اس وقت اس پر اتنے شدید اعتراضات سامنے نہیں آئے تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر اس کے خلاف اتنی مخالفت سامنے آئی تھی پھر کیا وجہ ہے کہ اچانک اس کی شدید مخالفت ہو رہی ہے۔ اس بل کو ٹرانسجینڈر پرسنز ایکٹ 2018 سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اعتراض کرنے والوں میں جماعت اسلامی سب سے آگے ہے اور اب اس نے اس بل کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے کہ یہ بل شریعت کے منافی ہے اور پاکستان میں شریعت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ پیپلزپارٹی نے فرحت اللہ بابر کے ذریعے اس میں فریق بننے کی درخواست دی جسے قبول کر لیا گیا۔  ٹرانسجینڈر کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن الماس بوبی بھی اس مقدمہ میں فریق ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت نے ان درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

چار برس قبل جب یہ بل پاس ہوا تھا تو اس وقت جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ جمعیت علمائے اسلام بھی اس پر معترض تھی تاہم مسلم لیگ ق، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے اس بل کے حق میں ووٹ کیا تھا۔ اس بل کو منظور کرانے میں تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

اب آتے ہیں اس بل پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کی جانب۔ سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ نے انسان کو مرد اور عورت بنایا ہے کسی کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے عورت اور مرد بن جائے۔

2۔ مخنث افراد کو بھی جنس تبدیل کرانے کی گنجائش موجود ہے۔اگر انٹر سیکس مردوں کے قریب ترین ہے تو وہ مرد ہو گا اور اگر عورتوں کے قریب ترین ہے تو وہ عورت ہو گا۔ اب اگر ایک نامکمل مرد یا عورت یا انٹر سیکس کو کسی علاج، آپریشن کے ذریعے مکمل مرد اور عورت بنایا جا سکتا ہے تو اس کی اجازت موجود ہے مگر ایک مخنث عورت اور مرد اپنی مرضی سے اپنی جنس کو تبدیل نہیں کر سکتے ہیں 

جھگڑا محض اتنا ہے کہ کیا کوئی مرد یا عورت نادرا کے ریکارڈ میں اپنی جنس تبدیل کرانے کا اختیار رکھتی ہے تو اس کے لیے ایک قانونی راستہ موجود ہونا چاہیے۔ اس بل پر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اعتراض اٹھایا تھا اور یہ تجویز کیا تھا کہ جو شخص بھی اپنی جنس تبدیل کرانا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک میڈیکل بورڈ اس کی تشخیص کرے اور پھر اس کی اجازت دی جائے۔ اگر صرف اتنی ترمیم کر لی جاتی تو آج یہ شورو غوغا ختم ہو جاتا۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے دعوے کی تصدیق کرانا ضروری ہے کہ نادرا کے ریکارڈ میں چالیس ہزار افراد نے اپنی جنس تبدیل کرائی ہے اور اس میں بڑی تعداد مردوں کی ہے۔ کیا سب خواجہ سرا ہیں؟ اس حوالے سے وفاقی حکومت کو وضاحت کرنا چاہیے۔ یہ میکنزم بہرحال موجود ہونا چاہیے کہ جنس کی تبدیلی کیوں ضروری ہے۔ اس بات پر بھی بحث ضروری ہے کہ کیا مرد، عورت اور مخنث کی تفریق تمام طبقوں کو یکساں حقوق فراہم کرنے کا سبب نہیں تھی۔ نمبر دو کیا یہ خواجہ سرا اپنی مرضی سے مرد اور عورت کی ذیل میں آ سکتا ہے۔ کیا خواجہ سرا مرد اور خواجہ سرا عورت کی کیٹگری متعارف ہو گی۔

کوئی بھی بل مختلف کمیٹیوں میں بحث کے بعد پیش ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔ ایسے اعتراضات جن میں وزن موجود ہے ان پر پھر سے بحث کی جائے لیکن معاملہ چونکہ انتہائی نازک ہے اس لیے آئینی اور قانونی ماہرین، علمائے کرام کے ساتھ بیٹھ کر اس بل پر ایک بار پھر سے غور کریں۔ اس بل میں جو قانونی سقم موجود ہیں انہیں دور کرنا ضروری ہے اور اس بل کو صرف ٹرانسجینڈر تک محدود کرنا چاہیے لیکن اگر کوئی اس سے فائدہ اٹھا کر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے تو اس راستے کو مسدود کرنا ضروری ہے۔

خواجہ سرا اس معاشرے کا ایسا طبقہ ہے جن کو یکساں شہری حقوق فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور میرے خیال میں سب جماعتیں اس طبقے کو حقوق دینے پر تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس قانون کی آڑ میں برائی کا راستہ کھولنے کی کوشش کرنے والوں کا محاسبہ ضروری ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ چند ایک مرد اپنی مرضی سے خواجہ سرا بن رہے ہیں ایسا کیوں ہو رہا ہے اور وہ اس جانب کیوں راغب ہو رہے ہیں، اگرچہ یہ چلن عام نہیں لیکن یہ کام ہو رہا ہے۔  علمی دلائل کو سامنے رکھ کر اس بل میں وقت کے ساتھ ساتھ ترامیم ضروری ہیں یہ معاملہ محض شادی اور وراثت کا نہیں بلکہ معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کا ہے۔ ان لوگوں کے لیے سزا کا طریقہ کار وضع کیا جائے جو اس قانون کے آڑ میں معاشرتی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں