سیلاب سے کروڑوں افراد متاثر،معاشی حالت بھی ٹھیک نہیں، انتخابات کیسے ہوں گے؟ پی ٹی آئی واپس اسمبلیوں میں جائے: سپریم کورٹ

سیلاب سے کروڑوں افراد متاثر،معاشی حالت بھی ٹھیک نہیں، انتخابات کیسے ہوں گے؟ پی ٹی آئی واپس اسمبلیوں میں جائے: سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قومی اسمبلی سے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ایک بار پھر پی ٹی آئی کو پارلیمان میں واپسی کا مشورہ دیا ہے اور سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاءبندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کی جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عوام نے آپ کو 5 سال کیلئے منتخب کیا، پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کروڑوں افراد اس وقت سیلاب سے بے گھر ہو چکے ہیں، ملک کی معاشی حالت بھی دیکھیں، پی ٹی آئی کو اندازہ ہے کہ 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہوں گے؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے گہرائی سے قانون کا جائزہ لے کر فیصلہ دیا، سپیکر کے کام میں اس قسم کی مداخلت عدالت کیلئے کافی مشکل کام ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ سپیکر کے مرحلہ وار استعفے منظور کرنے کی قانونی حیثیت ہے، بظاہر سپیکر کے اختیار میں مداخلت سے آرٹیکل 69 متاثر ہو سکتا ہے، عدالت کو مطمئن کریں کہ ہائیکورٹ کے حکم میں کیا کمی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماءاور سابق وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو اندازہ نہیں کہ رجیم چینج آپریشن کے نتیجے میں صرف کرنسی کی مد میں اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں فواد چوہدری نے لکھا ’سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اندازہ ہے کہ 123 ضمنی انتخابات پر کتنے اخراجات ہوں گے؟ سپریم کورٹ کو اندازہ نہیں کہ رجیم چینج آپریشن کے نتیجے میں صرف کرنسی کے ضمن میں پاکستان کو اب تک 5 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، انتخابات نہ ہونے کا نقصان انتخابات نہ کرنے سے کہیں بڑا ہے۔‘ 

مصنف کے بارے میں