نیویارک: مکڑیوں  کو شکار پھانسنے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی ۔ شکار خود ہی اُن کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ ہم انسان چونکہ مکڑیوں سے سائز میں بہت بڑے ہوتے ہیں .

 اس لیے ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ مکڑیاں ہمیں کھا سکتی ہیں یا نہیں۔ ماہر حیاتیات  مارٹن نیفیلر  اور کلاؤس برخوفر  نے اس سوال پر تحقیق کی ہے کہ اگر مکڑی انسانوں کو کھا سکتیں تو کیا ہوتا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں موجود مکڑیاں ایک سال میں 400 سے 800 ملین ٹن خوراک کھاتی ہیں جبکہ اُن کا اپنا وزن 25 ملین ٹن ہوتا ہے۔ 

یاد رہے کہ ٹائی ٹینک جہاز کا وزن 52 ہزار ٹن تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر کی مکڑیوں کا وزن  ٹائی ٹینک جیسے 478 جہازوں کے برابر ہے۔
براعظم انٹارکٹکا اور پانی کے علاوہ مکڑیاں ہر جگہ پائی جاتی ہیں۔ 

دنیا بھر میں مکڑیوں کی 45700 اقسام پائی جاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں مکڑیوں کی آبادی 131 مکڑیاں فی مربع میٹر ہے جبکہ کچھ حالات میں یہ 1000 مکڑیاں فی مربع میٹر بھی ہو سکتی ہیں۔

  مکڑیاں   ہر روز اپنے وزن کے دس فیصد جتنی خوراک کھاتی ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ  2 ہزار مکڑیاں مل کر ایک دن میں 200 پاؤنڈ وزنی شخص کو کھا سکتی ہیں۔

دنیا کی آبادی اس وقت ایک اندازے کے مطابق 7 ارب  ہے۔ 2005 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے  بالغ  افراد کا بائیو ماس (حیوی کمیت) 287 ملین ٹن یا 260 ارب کلو گرام یا 574 ارب پاؤنڈ ہے جبکہ بچوں کا بائیو ماس 70 ملین ٹن ہے۔
اسی تناظر میں دیکھا جائے تو 287 ملین ٹن وزن رکھنے والے بالغ افراد  کھا کر بھی ایک سال بعد مکڑیوں کی آدھی آبادی بھوکی ہوگی۔اس لیے ہمیں شکر کرنا چاہیے کہ مکڑیاں انسانوں کی بجائے دوسرے حشرات اور جانوروں کو کھاتی ہیں۔