مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن ودیا خلیل اور 2 ارکان کی برطرفی کا حکم

مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن ودیا خلیل اور 2 ارکان کی برطرفی کا حکم
کیپشن: عدالت نے چیئرپرسن مسابقتی کمیشن اور دو ممبران کی بحالی کے سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن ودیا خلیل اور 2 ارکان کی برطرفی کا حکم سنادیا۔ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے وفاق کی انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن ودیا خلیل اور دو ارکان ڈاکٹر محمد سلیم اور ڈاکٹر شہزاد انصر کو عہدے سے فوری ہٹانے کا حکم سنادیا۔ عدالت نے چیئرپرسن مسابقتی کمیشن اور دو ممبران کی بحالی کے سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

وفاقی کابینہ نے چار اکتوبر2018 کو مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن ودیا خلیل اور 2 ارکان کی برطرفی کا فیصلہ کیا تھا جس کی روشنی میں فنانس ڈویژن نے 15 اکتوبر 2018 کو ان کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ کمیشن پر مخصوص شخصیات کو نوازنے اور کرپشن کے الزامات تھے۔

تینوں ارکان نے اپنی برطرفی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے حکومت کا برطرفی کا حکم کالعدم قرار دے کر چیئرپرسن مسابقتی کمیشن اور ممبران کو بحال کردیا تھا۔ وفاق نے عدالت عالیہ کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی جسے منظور کرلیا گیا۔

ملک میں نجی بجلی گھروں کی کرپشن سے متعلق پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق 13سال میں قومی خزانے کو 4ہزار802ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں سبسڈی اور گردشی قرضے کی وجوہات بھی شامل ہیں۔ آٹا چینی بحران کے بعد پاور پلانٹ کرپشن میں جہانگیر ترین کا نام بھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق انہوں نے دو پاور پلانٹس پر 3 ارب 85 کروڑ کا ناجائز منافع کمایا۔

رپورٹ میں شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز شریف اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر کا نام بھی سامنے آیا جن پر اربوں کے غیر قانونی منافع کا الزام ہے۔

دو روز قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کابینہ نے مسابقتی کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق سفارشات کی منظوری دی ہے۔ مسابقتی کمیشن ماضی میں مخصوص شخصیات کو تحفظ دیتا رہا، اس کے خلاف 27 درخواستیں دائر ہیں، مسابقتی کمیشن کے اسٹیک ہولڈر نے ریاست کے 27 ارب روپے واپس کرنے ہیں۔