افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہونگے، وزیر خارجہ

 افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہونگے، وزیر خارجہ
کیپشن:    افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہونگے، وزیر خارجہ سورس:   فوٹو/بشکریہ ریڈیو پاکستان

انقرہ: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کا قیام ناصرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے طمانیت کا باعث ہو گا۔ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ معاملات بات چیت کے ذریعے ہی طے کرنا ہونگے اور اجتماعی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان خیالات کا اظہار انقرہ میں افغان امن عمل کے حوالے سے منعقدہ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے موقع پر خطاب میں کیا اور افغان وزیر خارجہ محمد حنیف آتمر نے اس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

تینوں وزرائے خارجہ نے افغان عمل امن کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والی پیشرفت، امریکا کی جانب سے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان اور خطے میں امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ، مصالحانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے افغان مسئلے سے منسلک تمام فریقین کو سنجیدہ اور تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس سہ فریقی اجلاس میں اقتصادی تعاون، روابط کے فروغ، علاقائی امن کو درپیش خطرات اور افغان مہاجرین کی باوقار واپسی سے متعلقہ امور پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن سے خطے کے اندر اور خطے سے باہر روابط کے فروغ کی نئی راہیں کھلیں گی۔ خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے ادارہ جاتی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس موقع پر ہمیں افغان مہاجرین کی باوقار اور وقت کے تعین کے ساتھ وطن واپسی کیلئے ایک قابلِ عمل اور جامع منصوبہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان، ایک پر امن اور مستحکم افغانستان کیلئے کی جانے والی عالمی کاوشوں میں شریک رہے گا۔

خیال رہے کہ افغانستان اور خطے میں قیام امن کیلئے تشکیل پانے والا پاکستان افغانستان اور ترکی پر مبنی "سہ فریقی پروسس" 2007 سے قائم ہے۔