دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی عظیم قربانیوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ، انجنیئر خرم دستگیر

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی عظیم قربانیوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ، انجنیئر خرم دستگیر

اسلام آباد :  وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکی صدر کی نئی حکمت عملی پر پاکتان کی قومی پالیسی کی تشکیل کے لیے آج (جمعرات کو ) قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے قومی پالیسی سینیٹ آف پاکستان کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جائے گی دہشتگردی کے خلاف اس کی عظیم قربانیوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے امریکی صدر کے بیان سے پاکستان متفق نہیں ہے افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے پورے خطہ میں امن و سلامتی چاہتے ہیں.


ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھد کو ایوان بالا میں ابتدا کی پالیسی بیان دیتے ہوئے کیا ایوان بالا میں جنوبی ایشیاء اور افغانستان سے متعلق 22اگست 2017کو اعلان کردہ امریکی صدر کی نئی حکمت عملی پر بحث کروائی گئی ابتدائی طور پر حکومتی موقف پیش کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ملکر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے امریکی صدر نے 22اگست کے پاکستان سے متعلقہ بیان سے متفق نہیں ہیں پاکستان کو دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں نمایاں کامیابی ملی ہے واضح دو ٹوک پالیسی ہے کہ اپنی سرزمین کو کسی اور کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے پاکستان کی عظیم قربانیوں کا سب نے اعتراف کیا ہے خطہ میں امن و سلامتی تنازعات کے پرامن حل سے قائم ہو سکتی ہے جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو حل کرنا ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ 16سالوں سے کوئی جنگ سے افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکا افغان عوام کی مرضی سے سیاسی حل پائیدار ثابت ہو سکتا ہے کوئی بھی امن و سلامتی کو تنہا یقینی نہیں بنا سکتا ہے دہشتگردوں کی ناکامی ہمارا مشترکہ کاذ ہے افغان تنازعہ کا صرف فوجی حل نہیں ہے پاکستان پورے خطہ میں امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہے سیکورٹی کے مسائل پر گزشتہ شب وفاقی کابینہ میں جائزہ لیا گیا وزیر اعظم کو قومی پالیسی کا مکمل اختیار دیا گیا ہے وزیر اعظم نے قومی پالیسی کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو (کل) طلب کر لیا ہے سینیٹ کی اجتماعی سوچ کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔