پشاور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والا یمنی نوجوان دنیا بھر میں مقبول ہو گیا

پشاور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والا یمنی نوجوان دنیا بھر میں مقبول ہو گیا

پاکستا نیوں میں ٹینلنٹ کی کمی نہیں ہے اس سر زمین پا ک نے ارفہ کریم جیسی ہونہار  طالبات کو دنیا بھر میں مقبول کیا ہے ۔تاہم اس سرزمین پاک پر آنے والے دنیا کے دوسرے  ممالک کے نوجوان بچے اور بچیاں بھی مستفید ہو ئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق یمن سے تعلق رکھنے والے ہاشم الغیلی ہر ایک فرد کی عمر اور پس منظر سے قطع نظر سائنس تک رسائی چاہتے ہیں۔انھوں نے اپنے اسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے 2009ء میں فیس بُک پر اپنا صفحہ شروع کیا تھا۔


الغیلی اس وقت برلن میں مقیم ہیں۔انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی ابتدائے زندگی کے بارے میں بتایا ہے کہ ان کے والد انھیں ایک کسان بنانا رچاہتے تھے لیکن ان کا لگاؤ سائنس کی جانب تھا اور انھوں نے اوائل عمری ہی میں بچوں کے سائنسی جریدے پڑھنا شروع کردیے تھے۔

انھوں نے پاکستان کی  پشاور یونیورسٹی  سے بائیو ٹیکنالوجی میں گریجو ایشن کی ڈگری حاصل کی ہے اور جرمنی کی جیکبس یونیورسٹی سے اسی مضمون میں ماسٹرز کیا اور آج وہ مالیکیولر بیالوجسٹ اور سائنسی مبلغ ہیں۔

ہاشم الغیلی نے خود کو اس مضمون تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کی دلچسپی کے متنوع میدان ہیں۔ انھوں نے ویڈیو پروڈکشن میں بھی مہارت حاصل کی اور بیالوجی سے ٹیکنالوجی اور فطرت تک مختلف سائنسی موضوعات پر مختصر دورانیے کی جامع معلومات پر مبنی ویڈیوز بنانا شروع کردیں۔

آج فیس بُک پر ان کے صفحے کے پیروکاروں کی تعداد تین سال سے بھی کم عرصے میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے متجاوز ہو چکی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ ان کے پیروکاروں کی تعداد میں 2015ء کے بعد یک لخت نمایاں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا کیونکہ اسی سال فیس بُک نے ویڈیوز متعارف کرائی تھیں اور انھوں نے مزید ویڈیو ز بنائیں اور انھیں اپنے صفحے پر پوسٹ کرتے رہے ۔اس کے بعد ان ویڈیوز کو دیکھنے والے ناظرین اور پیروکار وں کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی گئی۔

ہاشم الغیلی فیس بُک پر الٹے سیدھے تبصرے کرنے والوں سے نالاں ہیں اور وہ اپنی پوسٹوں پر ایسے غیر مہذب تبصرے اور تحریریں مسلسل حذف کرتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صفحے کو اچھائی کی قوت بنانا چاہتے ہیں۔وہ جدید سائنسی موضوعات پر معیاری مواد پر مبنی ویڈیوز تیار کرتے ہیں ۔وہ ایک بہترین مقرر بھی ہیں اور دوسر ے کاروباروں کی ترقی میں مدد کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے میں بھی کام کرتے ہیں۔

وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات ہی پر فیس بُک پر کیوں تحریریں اور ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں،اس کا انھوں نے ایک دلچسپ جواز بتایا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’’انھیں اپنے خطے سے ہمیشہ بُری خبریں ہی سننے کو ملتی ہیں اور اس کے بارے میں بہت زیادہ منفیت پائی جاتی ہے۔اس لیے میں نے سوچا کہ لوگوں کے لیے یہی ایک اچھی چیز ہوسکتی ہے کہ وہ جب فیس بُک پر لاگ ان ہوں تو کم سے کم ایک دن کے لیے ہی سہی انھیں کوئی اچھی چیز دیکھنے کو مل جائے‘‘۔