ملک میں ادارے  اپنے حدود میں رہ کر کام کرتے تو صورتحال تبدیل ہوتی، طلال چوہدری 

 ملک میں ادارے  اپنے حدود میں رہ کر کام کرتے تو صورتحال تبدیل ہوتی، طلال چوہدری 

سرگودھا: مسلم لیگ ن کے رہنما و وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ  جس ملک میں طالبان کے دفاتر کھولنے کی بات ہو  اور مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو  60 کروڑ روپے فنڈنگ کی جاتی ہو تو دنیا ہم پر انگلیاں تو اٹھائے گی.


انہوں نے سرگودھا میں ہونے والے مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کنونشن کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو   کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں   ادار ے اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے تو صورتحال تبدیل ہوتی، نواز شریف کے خلاف ریفرنس جھوٹی گواہیوں پر بنایا  گیا، اس کے بعد کسی ریفرنس کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔منتخب وزیر اعظم اپنے بچے سے تنخواہ وصول نہیں کرتا اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور اسے اقتدار سے ہٹادیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئین بنانے والے ہیں کسی ادارے کی توہین نہیں کی، اداروں کی توقیر پر یقین رکھتے ہیں لیکن اگر ادارے ذاتی پسند نا پسند پر فیصلے کرینگے تو پھر و ہ متنازعہ ہونگے۔ ہم اداروں کی عزت بڑھانا چاہتے ہیں ان کی عزت اسی میں ہے وہ اپنے حدود میں رہ کر کام کریں۔کیلبری فونٹ کے متنازعہ ہونے کے بعد  اس ریفرنس  کی کوئی اہمیت نہیں رہی، اس فونٹ نے ساری اہمیت ختم کردی ہے، نیب نے جو گواہ اپنے حق میں پیش کیا اس نے نواز شریف کے حق میں گواہی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو وزارت اعظمی  سے ہٹادیا گیا اور پھرپارٹی قیادت سے بھی لیکن اس ملک کا وزیر اعظم اور پارٹی قائد وہی ہو گا جس پر میاں نواز شریف ہاتھ رکھیں گے۔پاکستان کے ساتھ ظلم کرتے ہوئے ایک این جی او کے کہنے پر وطن عزیز کا نام دہشت گردوں کی فنانسنگ کرنے والوں کی لسٹ میں ڈال دیا گیا ،ہم نے تو بہت قربانیاں دیں لیکن دنیا ہماری قربانیوں کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے۔ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔