این اے 75 ڈسکہ: تحریک انصاف نے دوبارہ الیکشن کرانے کی مخالفت کردی

NA-75 Daska: PTI opposes re-election
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: حکمران جماعت تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کرانے کی مخالفت کر دی ہے۔

تفصیل کے مطابق این اے 75 کے ضمنی الیکشن میں بدنظمی کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں سماعت ہوئی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی اور ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار دونوں جماعتوں کے ساتھی رہنماؤں کے ہمراہ پیش ہوئیں۔

ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ این اے 75 کے ضمنی انتخابات میں تاریخی دستاویز الیکشن کمیشن کی جانب سے خود جاری کی گئی پریس ریلیز ہے جس میں اس بات کی نشاندہی موجود ہے کہ حلقے میں دھاندلی کی گئی۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ صرف 20 پولنگ سٹیشنز پر ری الیکشن کی بجائے پورے حلقہ این اے 75 میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا الیکشن تھا جس میں 20 ریٹرننگ افسر ہی لاپتا ہوئے اور ایک ساتھ ہی سامنے بھی آ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن میں بدانتظامی اور لڑائی جھگڑے کے واقعات رونما ہوئے، گولیاں چلنے سے لوگوں کی جانیں گئیں جس کی وجہ سے پورا انتخابی عمل تنازعات کا شکار ہو چکا ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پریزائیڈنگ افسر کے بیان نے بھی ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔

خیال رہے کہ ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 سے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر لڑائی جھگڑے اور بدانتظامی کا الزام لگا رہی ہیں۔ الیکشن کے روز صورتحال اس قدر کشیدہ ہوئی کہ دو معصوم جانیں اس کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ اس واقعہ میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہی کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ حلقہ کے 20 پولنگ سٹیشنز پر ری الیکشن کی درخواست دائر کریں۔ تاہم ن لیگ کی جانب سے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔