صدارتی نظام کی بک بک

صدارتی نظام کی بک بک

اپنے مہرے کے ہاتھوں ہارتی ہوئی اسٹیبلشمنٹ اور ناکامیوں اور شکست کو نوشتہ دیوار کے طور پر دیکھنے والی حکومت کو صدارتی نظام لانے کی سوجھ رہی ہے… شائد اسی کی آڑ میں انہیں کچھ پناہ مل جائے… اور ان کے اندر زندہ رہنے کی نئی رمق پیدا ہو جائے… اس کے ردعمل میں پوری قوم اس کے اہل دانش، اس سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے سیاستدان اور جماعتیں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں مبادا ایک بار پھر قومی اتفاق رائے کی تارپود بکھیر کر رکھ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے… یوں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے… کہا جا رہا ہے کہ پارلیمانی نظام ہمیں جمہوریت نہیں دے سکا… سوال پیدا ہوتا ہے آپ نے فوجی ڈکٹیٹروں کے سائے تلے ملکی تاریخ کا نصف حصہ صدارتی نظام کی پامالیوں کے نیچے گزار دیا… تب بھی آپ کا دعویٰ تھا کہ یہ جمہوریت کا رخِ زیبا ہے… یوں آپ کے پیچیدہ صدارتی نظام میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کے تصورات پاکستان و جمہوریت کو بوٹوں تلے روندتے ہوئے ہمیں دس دس اور گیارہ گیارہ سال کے صدارتی نظام کا بدنما تحفہ دیا… اس دوران ملک ٹوٹا… سیاچن دشمن کے ہاتھ میں گیا… اس کے برعکس پارلیمانی نظام جتنا عرصہ رہا، جیسا رہا، اپنے برتر حالات میں بھی اس نے ملک خدادادکو سنبھالے رکھا… تاہم ایک بھی پارلیمانی حکومت کو اس کی آئینی مدت پوری کرنے کی مہلت نہ دی گئی… اس کا تسلسل کبھی جاری نہیں رہنے دیا گیا اور منتخب پارلیمانی وزیراعظم کو خوب خوب مطعون کیا گیا… تاکہ ان میں سے کسی ایک کا اعتبار و ساتھ برقرار نہ رہے… اس حشر سامانی میں ڈکٹیٹروں کے نام نہاد صدارتی جمہوریت کی آڑ میں وارے نیارے رہے… جب لوگ دس بارہ سال کی مدت کے بعد ایک آمریت سے تنگ آ گئے تو سخت عوامی دبائو کے نتیجے میں تھوڑا سا وقفہ پارلیمانی نظام کو بھی دیا گیا… یہ ہے فٹ بال کا وہ کھیل جو اب تک ملک کے ساتھ کھیلا گیا… آج پھر ایسی صورت حال سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے… پارلیمانی نظام میں آمریتوں کے ہاتھوں اپنی بار بار کی خستہ حالی کے باوجود یہ کیا کم خدمت سرانجام دی کہ روایتی جنگوں کے مقابلے میں ملک کے دفاع کو مضبوط تر بنا دکھایا… ایٹم بم کی شروعات ذوالفقار علی بھٹو نے کیں… اسے اختتام تک نوازشریف نے پہنچایا حالانکہ اندرخانے بزرجمہروں نے اسے مشورہ دیا تھا کہ یہ کام نہ کرو امریکہ ناراض ہو جائے گا… اس نے کر دکھایا… نتیجہ آج تک یہ سامنے آیا کہ تب سے اب تک ملک ہمارا نقشۂ عالم پر ایٹمی قوت بن کر کھڑا… بھارت کو جرأت نہیں ہوئی کہ حملہ کرے… یہ تناظر پارلیمانی نظام کی فوقیت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے…

اس ضمن میں پاکستان کی اکہتر بہتر سالہ تاریخ پر نگاہِ واپسی ڈالنا مفید ہو گا… 1949 میں پہلی دستور ساز اسمبلی نے جو قراردادِ مقاصد منظور کی اس 

میں واضح اور قطعی الفاظ میں ملکِ خداداد کے لئے پارلیمانی نظام تجویز کیا گیا… صدارتی کے لئے بس موہوم سی ایک دو آوازیں اٹھیں اور دب کر رہ گئیں… پھر اسی دستور ساز اسمبلی نے 1954 میں جس مسودئہ آئین کی منظوری دی وہ بھی مغربی اور مشرقی پاکستان کے مکمل اتفاق رائے سے پارلیمانی نظام کی فوقیت اور ضرورت کے حق میں اس نے بھی اپنی رائے ثبت کی… مگر اسے دن کی روشنی دیکھنے نہ دی گئی اور اسمبلی کو تحلیل کر کے رکھ دیا گیا…پھر دوسری آئین ساز اسمبلی کا انتخاب کرایا گیا… اس نے 1956 میں دونوں صوبوں کے نمائندوں کے لئے جو آئین منظور کیا وہ بھی اسی نظام پر اتفاق رائے کی غمازی کرتا ہے مگر یار لوگوں نے اس ملک کی آمریت زدہ کبھی پیچھے بیٹھ کر کبھی ہمارے سروں پر مسلط ہو کر ان کو چلنے نہ دیا… اپنے مارشل لائوں کی نذر کر دیا… نوبت با ایں جا رسید کہ ننگا مارشل لاء ہم پر مسلط کر دیا… پھر نام نہاد فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی جیبِ خاص سے قوم کو ایک آئین دیا… جو اس کے نزدیک آمریت و جمہوریت کا ملغوبہ تھا… مگر عوام نے نہایت حقارت کے ساتھ اسے مسترد کر دیا… ملک کے ٹوٹ جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی… دس سال سے پہلے ہی پاکستان کے دو ٹکڑے ہو گئے… بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی… کوئی اتنے بڑے حادثے کو خاطر میں نہ لایا… البتہ جرنیلوں کو ایک ملک کھیلنے کی خاطر مل گیا… تب پریشانی اور اس شکست کے عالم میں ایک اور دستور منظور کیا گیا… منتخب نمائندوں نے اشک شوئی کے عالم میں طے کیا کہ اب آئین کی بنیادی اقدار کو چھیڑا نہیں جائے گا اور قوم کے اصل اتفاق رائے پر مبنی متفق آئینی پارلیمانی نظام کو حرزِ جاں بنا کر اس کی حفاظت کی جائے گی… مگر ہمارے ڈکٹیٹروں کو ایسا منظور نہیں نہ تھا… اسی خدشے کے پیش نظر 1973 کے آئین میں اس شق کا اضافہ کیا گیا کہ جو اسے چھیڑے گا وہ غدار قرار دیا جائے گا… مگر امریکہ کا آلۂ کار بن کر ہمارے سینوں پر مونگ تلنے والے آمر کب باز آنے والے تھے… جرنل مشرف نے اس شق کو منجمد کر کے رکھ دیا… نوازشریف اس کے تحت اس پر غداری کا مقدمہ چلایا تو اسے جس انجام سے اب تک دوچار کیا جا رہا ہے وہ سب کو معلوم ہے…

اسی ضمن میں شریف الدین پیرزادہ جیسے آمریت کو سہارا دینے والے نابغہ وکیل نے یہ نکتہ سمجھایا اس آرٹیکل کو چھیڑو مت… اسے منجمد کر دیا کرو… نہ بجے کا بانس نہ بجے گی بانسری… قوم اس پر سخت پریشان ہوئی… ایک اس قانونی دماغ کی بھی مٹی پلید ہوئی… وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے… مگر اپنی شرارت کے بیج بو گئے… تاہم آرٹیکل 6 قوم کے زبردست دبائو کی وجہ سے پوری آن بان کے ساتھ کھڑا ہے… امریکیوں کو بھی یہ ایک آنکھ نہیں بھاتا مگر اس کی وجہ سے ان کی ایک نہیں چلتی… آج جب کہ انتخابات سر پر کھڑے ہیں… ان کے شکست کے پھریرے لہراتے نظر آ رہے ہیں تو ایک مرتبہ پھر صدارتی نظام کا شوشا عوام میں بلند کیا جا رہا ہے جو یقینا نہیں چلے گا کہ پاکستانی قوم ڈٹ کر سامنے کھڑی ہو گئی ہے… نئی تجویز یہ پیش کی جا رہی ہے کہ 1974 میں جو اندراگاندھی نے ایمرجنسی کو آزمایا تھا اسے چلا دیتے ہیں… تب معلوم ہے کہ مائی صاحبہ کس انجام پر پہنچیں؟… الٰہ آباد ہائیکورٹ نے موصوفہ کو انتخابی دھاندلی کی بنیاد پر برطرف کر دیا… آپ نے رعونت میں آ کر پورے ملک میں ایمرجنسی لگا دی… پوری طاقت کے ساتھ کرسیٔ اقتدار پر مہارانی بن کر بیٹھ گئیں… بھارتی قوم ردعمل میں بپھر اٹھی… جنتا پارٹی بنی… چنائو ہوئے تو اندرا رانی کو عوام نے ووٹ کی طاقت کے ذریعے اُڑا کر رکھ دیا… پنڈت نہرو کی بیٹی یہ جا وہ جا… وہاں جمہوریت مزید مضبوط ہوئی… کانگریس کا اقتدار خاک میں مل کر رہ گیا… سو اے صاحبو! اے قارئین کرام ملک خداداد کے فرزندو ہوشیار باش! تمہیں ایک بار پھر آزمائش میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے… اس کے آگے پُل باندھ کر کھڑے ہو جائو… اپنے آئینی و سیاسی اتفاق رائے پر ہرگز آنچ نہ آنے دو… یہ ڈکٹیٹر اور ان کے آلہ کار اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے… ملک کے اتحاد میں ہرگز دراڑیں نہ آنے دو یہ لمحۂ موجود کے اندر تم ہم سب کا اوّلین فریضہ ہے…

مصنف کے بارے میں