’’ مسلم لیگ اور surrogacy ‘‘

’’ مسلم لیگ اور surrogacy ‘‘

 قارئین کو پہلے کالم کے عنوان کی وضاحت کر دوں۔ تولید کا ایک طریقہ surrogacy ہے جس میں کسی کی کوکھ میں اپنا نطفہ رکھ کر بچے کو جنم دیا جاتا ہے آسان لفظوں میں اسے کرائے کی کوکھ کہہ سکتے ہیں۔ عموما یہ طریقہ ایسے جوڑے استعمال کرتے ہیں جن کی خواتین طبی پیچیدگی کی وجہ سے خود بچے کو جنم نہیں دے سکتیں لیکن یہ بھی آج کل فیشن بنتا جا رہا ہے جس میں ہالی وڈ کے بعد بالی وڈ اور نام نہاد اشرافیہ پیش پیش ہیں۔ ہماری سیاست میں بھی گزشتہ ستر سال سے کرائے کی کوکھوں کا کردار رہا ہے۔ ان کرائے کی کوکھوں کا مقصد، ان کا خالق کون ہے اور یہ کیونکر وجود میں آئی اس حوالے سے میں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ 

کسی بھی جمہوری ملک میں جانچنا ہو کہ وہاں کی سیاسی جماعتیں جمہوریت ، آئین ، انسانی حقوق اور پارلیمنٹ پر کتنا یقین رکھتی ہیں یا ان کا اولین مقصد اقتدار حاصل کرنا ہوتا ہے چاہے اس کے لیے فوجی آمروں کا دم چھلا بننا پڑے۔ اس کا ایک اور نسخہ یہ ہے کہ اس ملک کی سیاسی جماعتوں کا ماضی دیکھیں۔ ان کی جمہوری اقدار دیکھیں۔ ماضی میں ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے زیر سایہ نام نہاد جمہوری حکومتوں کو دیکھ لیں وہاں جمہوری اقدار سے زیادہ وردی میں ملبوس آمر کی ’’چھڑی‘‘ کی زیادہ چلتی تھی۔ 

اس چھڑی کوطاقت دینے میں بڑا حصہ جمہوریت کے لبادے میں ان بھیڑیوں کا تھا جو اسے وردی میں دس سال منتخب کروانے کا نعرہ ببانگ دہل بیان کرتے تھے۔ یا وہ لیڈران جن کو ڈکٹیٹر اپنی بھی عمر لگ جانے کی دعائیں دیتے تھے۔ یا وہ بد ترین فوجی آمر اور اس کے حواری جو قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو بھی غداری کا سرٹیفیکٹ دے گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فوجی آمریت اور ان کے سب ٹائوٹوں کی جاے پناہ 

بھیس بدل بدل کر مسلم لیگ ہی ٹھہری۔ چاہے وہ کنوشن لیگ ہو، نواز لیگ ہو، جونیجو لیگ ہو، پگارا لیگ یا ق لیگ ہو۔ جہاندیدہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایوب خان کی خباثت و خیانت کو بھانپ لیا تھا اس لیے اسے فیلڈ پوسٹوں سے دور رکھنے کی تاکید کی لیکن زندگی نے ان سے وفا نہ کی اور وہ راہی عدم سدھار گئے۔ بدبخت ایوب خان نے قائد کی اس آبزرویشن کو گرہ سے باندھ لیا اور وار کے لیے مواقع تلاش کرتا رہا۔ اس نے جب سازشوں کے ذریعے اقتدار سنبھالا تو قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو نشانے پر رکھ لیا اور اس کھیل میں مسلم لیگ کو ہی اپنی باندی بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میر صادق اور میر جعفر سے لے کر آج تک غداروں کی آبیاری کے لیے یہ مٹی بڑی زرخیز ہے۔ جب اس نے کنونشن لیگ بنائی تو کئی بڑے بڑے مسلم لیگی اس کی جھولی میں پکے پھل کی طرح آن گرے۔ ایوب خان نے وطن عزیز کے ساتھ تو جو کیا لیکن اس ملک کی سیاست اور جمہوریت کے ساتھ بڑا کھلواڑ کر گیا اور وہ یہ تھا کہ مسلم لیگ کو ہمیشہ کے لیے فوجی آمریت کی باندی بنا گیا اور جب بھی فوجی آمروں کو پناہ کی ضرورت پڑی تو مسلم لیگ کی کوکھ کو ہی انہوں نے (surrogate mother ) بنا لیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آمر اول ایوب خان نے اس کراے کی کوکھ کا انتخاب مسلم لیگ کی صورت میں کیا جس کو اس کے بعد آنے والے گماشتوں نے بھی اپنایا اور مسلم لیگ ہمیشہ کے لیے آمریت کی کوکھ بن گئی۔ گو کہ نواز شریف نے کسی حد تک اپنی غلطی کو درست کرنے کی کوشش کی لیکن آج بھی ان کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہی دیکھتی ہے۔ 

ایوب خان کے بعد ضیا الحق نے مسلم لیگ کو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کراے کی کوکھ کے طور پر استعمال کیا۔ بے ضرر محمد خان جونیجو نے اپنی خدمات پیش کیں لیکن آمر کو سندھ کے اس سپوت میں اپنا دماغ استعمال کرنے کی بو آئی تو اسے چلتا کیا۔ پھر قرعہ لاہوری بابو نواز شریف کے نام نکلا اور اس نے جمہوریت کے لبادے میں ثابت کیا کہ اس سے زیادہ آمریت کا وفادار کوئی نہیں۔ آئی جے آئی سے لے کر مسلم لیگ نواز کے قیام تک اس کے جرائم کی لمبی فہرست ہے۔ گو کہ جب اس کی بھی آنکھیں کھل گئیں تو یہ بھی بے نظیر شہید کے ساتھ ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے ذریعے جمہوریت کی طرف واپس لوٹ گیا اور خود کو ضیا ء کا وارث کہنے والا اس کے وجود سے ہی انکاری ہو گیا۔ لیکن اس نے جتنا ساتھ آمریت کا دیا اس کے دیے ہوئے زخم آج بھی قوم اور وہ خود بھی چاٹ رہے ہیں۔ 

 پھر مشرف کے دور میں نواز شریف کا تختہ الٹ کر ایک بار مسلم لیگ ق کی کراے کی کوکھ استعمال کی گئی۔ ق لیگ کے پرویز الہی نے تو چاپلوسی کی تمام حدیں پھلانگ لیں اور جنرل مشرف کو دس سال وردی میں منتخب کرانے کی ہرزہ سرائی کر دی۔ لیکن تاریخ کا جبر دیکھیں وہ آج بھی سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی کا کسٹوڈین ہے۔ ویسے ق لیگ نے بھی مشرف کے دیس نکالے کے بعد اس سے لاتعلقی اختیار کر لی کیونکہ ایسی جماعتوں کا ہدف اقتدار ہوتا ہے۔ 

مسلم لیگ پگاڑہ کے جد امجد بڑے پیرصاحب پگاڑا تو خود کو کہتے ہی جی ایچ کیو کی پیداوار تھے۔ یہ باقی لیگیوں کی طرح آدھے تیتر اور آدھے بٹیر نہ تھے اور ڈنکے کی چوٹ پر اعتراف کرتے تھے۔ 

بے چارے عوام بھی لفظ ’’مسلم لیگ‘‘ کے جھانسے میں آگئے اور بے وقوف بنتے چلے گئے۔ آمر بھیڑ کی کھال میں یہ بھیڑیے اب بھی جمہوریت کے استھہان پر کسی نہ کسی مسلم لیگ کے سربراہ کے طور پر کرو فر سے براجمان ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ نے ہمیں علیحدہ وطن دیا لیکن اس سے بھی کوئی انکاری نہیں کہ ان کے بعد آنے والی درجن بھر مسلم لیگوں نے محض اقتدار کی سیاست کی خاطر آمریت کے لیے اپنی کوکھ کرائےکے طور پر پیش کی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

قارئین کالم کے بارے میں اپنی رائے اس وٹس ایپ 03004741474 پر بھیجیں۔

مصنف کے بارے میں