بھول جانا …

بھول جانا …

دوستو،اسٹیج کے کسی مزاحیہ فنکار نے اپنے سامعین کو ایک لطیفہ سنایا تو لوگ بے ساختہ اور دیر تک ہنستے رہے۔ اس نے چند منٹوں کے بعد اور باتوں کے درمیان دوبارہ وہی لطیفہ سنایا۔۔اس بار چند لوگ ہنسے مگر بالکل تھوڑا سا۔ اس نے چند اور لطیفے سنائے اور سب سے پہلا سنایا جانے والا لطیفہ تیسری بار سنایا، اس بار کوئی بھی نہ ہنسا۔ اس نے سوال کیا کہ وہ لوگ کیوں نہیں ہنسے۔ سامعین نے کہا، ایک ہی لطیفے پر کوئی کتنی بار ہنس سکتا ہے۔ اس نے مسکرا کر کہا، ہم ایک غم پر تو عمر بھر روتے رہتے ہیں، ایک لطیفے پر بار بار کیوں نہیں ہنس سکتے۔

ہمارے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے ، ایک تو ہم کسی کے گھر جاتے ہیں تو یہ راستہ بھول جاتے ہیں، آج کل گوگل میپ نے آسانی تو کردی لیکن سینکڑوں بار ایسا ہوا کہ ہم کسی دوست کے گھر گئے لیکن جب دوبارہ جانا ہوا تو ہمیں علاقے کا تو پتہ ہوتا تھا لیکن گھر کا محل وقوع ہماری سوچ  اور سمجھ سے باہر ہوتاہے۔۔ اسی طرح آج کل ہمیں جو شکایت ہے کہ ہم سے اکثر پریس کلب یا نجی تقریبات میں جب لوگ آکر ملتے ہیں توہمیں ان کے نام یاد نہیں رہتے۔ لگتا ہے میموری کارڈیعنی دماغ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ جب دماغ کمزور ہونے لگے تو بادام کھایا کرو۔۔ ہم نے باباجی سے پوچھا کہ زیادہ بادام کھانے سے کیا ہوتا ہے؟ باباجی نے مسکرا کر برجستہ کہا۔۔بادام ختم ہوجاتے ہیں۔۔ دماغ کے حوالے سے دو ماہرین نے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے، جس کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے۔آئرلینڈ کے ڈاکٹر ٹوماس ریان اور کینیڈا کے ڈاکٹر پال فرینکلینڈ کا یہ نیا نظریہ ’نیچر ریویوز نیورو سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے انسانی یادداشت اور سیکھنے کے عمل (اکتساب) کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔اپنی تحقیق میں ان دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ یہ بھی سیکھتا ہے کہ مختلف حالات کے تحت کون کون سی معلومات اہم ہیں اور کون سی نظرانداز کرنے کے قابل ہیں۔بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ ’ضروری‘ یا ’اہم‘ معلومات کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور ہمارا دماغ ایسی پرانی معلومات پر توجہ نہیں دیتا جو موجودہ حالات سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔اعصابیات (نیوروسائنس) میں کسی خاص علم یا مہارت سے متعلق یادداشت محفوظ کرنے والے دماغی خلیوں کے مجموعے ’اینگرامز‘ (engrams) کہلاتے ہیں۔ جب ہم اس بارے میں کوئی بات یا واقعہ یاد کرتے ہیں تو اس سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا ہوتی ہے اور یوں وہ یادداشت ہمارے ذہن میں ’تازہ‘ ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ ’بھولنے‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یاد ہمارے ذہن سے غائب ہوجائے، بلکہ ہم ضرورت پڑنے پر اس یاد سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا نہیں کر پاتے۔بظاہر یہ ایک خرابی ہے درحقیقت اس کا بہت فائدہ ہے کیونکہ جیسے جیسے ہمارے سیکھنے کا عمل آگے بڑھتا ہے، ویسے ویسے پرانی باتوں کا زیادہ تعداد میں یاد رہ جانا ہمارے اکتساب کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔لہذا، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں۔یعنی صحت مند انسانی دماغ باقاعدہ طور پر یہ بھی سیکھتا ہے کہ ’بھلایا‘ کیسے جائے، تاکہ وہ بدلتے ہوئے ماحول اور حالات سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کیلیے تیار کرتا رہے۔اس دوران دماغ کے خلیے تو ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں مگر اِن میں سرگرمی/ تحریک میں تبدیلی آجاتی ہے جسے ہم ’بھول جانا‘ قرار دیتے ہیں۔غرض کہ نیا سیکھتے دوران ہمارا دماغ مختلف اینگرامز کو تحریک دینا اور مختلف یادوں کو تازہ کرنا سیکھتا ہے: وہ یادیں جو اس کے کام کی ہوتی ہیں۔غیر متعلقہ یادوں کو وہ نظرانداز کردیتا ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ ہم انہیں بھول جاتے ہیں۔ وہ یادیں ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں لیکن بے حس و حرکت رہتی ہیں۔

دماغ کے حوالے سے ہی ایک خبر ہماری نظر سے گزری، جس کے مطابق اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں ماہرین نفسیات اور دماغی امراض کے ماہرین کی کل تعداد 412 ہے ،قومی صحت کی وزارت نے یہ انکشاف پارلیمنٹ کو فراہم کردہ ایک رپورٹ میں کیا ہے جس میں پورے ملک میں مریضوں اور معالجین و ماہرین کی تعداد کی تفصیلات فراہم کی ہیں وزارت قومی صحت کے مطابق ملک کے 30 ہزار 731 مریضوں کے لیے ذہنی امراض کا ایک معالج دستیاب ہے، رجسٹرڈ معالجین 837، ذہنی امراض کا پھیلاؤ دیگر ممالک سے کم ہے۔ملک میں مجموعی طور پر قومی ہیلتھ کمیشن سے رجسٹرڈ ذہنی امراض کے معالجین کی کل تعداد 837 ہے۔سندھ میں 235، خیبر پختونخوا میں 127، بلوچستان میں 43، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں 18 اور دو غیر ملکی ماہرین ذہنی امراض موجود ہیں،وفاقی دارالحکومت اور صوبہ پنجاب کے 33 ہزار مریضوں، سندھ کے 20 ہزار 162، خیبر پختونخوا کے 31 ہزار 562، بلوچستان کے 34 ہزار 453 مریضوں جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے 42 ہزار 527 مریضوں کے لیے ایک ایک معالج دستیاب ہے۔

جدید تحقیق تو بتاتی ہے کہ بھول جانا بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔۔سراج لکھنوی کا شعر ہے۔۔ہاں تم کو بھول جانے کی کوشش کریں گے ہم،تم سے بھی ہو سکے تو نہ آنا خیال میں ۔۔دوسری جانب عطاالحق قاسمی فرماتے ہیں۔۔اسے اب بھول جانے کا ارادہ کر لیا ہے،بھروسہ غالباً خود پر زیادہ کر لیا ہے۔۔ایک خاتون کا قصہ ہے کہ ۔۔۔دفتر سے نکلتے یاد آیا کار کی چابی دفتر میں بھول آئی ہوں۔ واپس جا کر دیکھا چابیاں نہیں تھیں۔ دوبارہ پرس چھان مارا۔ چابیاں ندارد۔ 'اف! چابیاں گاڑی میں رہ گئیں تھیں!'۔بھاگم بھاگ پارکنگ میں پہنچی، گاڑی غائب!!!پولیس کو فون کر کے گاڑی کا نمبر بتایا اور اعتراف کیا کہ چابیاں گاڑی میں رہ گئیں تھیں اور گاڑی چوری ہو گئی ہے۔ پھر دھڑکتے دل کے ساتھ میاں کو زندگی کی مشکل ترین کال کی اور اٹکتے اٹکتے بتایا گاڑی چوری ہو گئی ہے۔بے وقوف عورت میں تمہیں دفتر ڈراپ کر کے آیا تھا صبح، میاں جی گرجے۔خدا کا شکر ادا کیا اور میاں سے کہا کہ آ کر لے جائیں۔میاں جی نے جلے بھنے انداز میں کہا۔۔لے تو جاؤں، پہلے پولیس کو تو یقین دلا لوں کہ تمہاری کار میں نے چوری نہیں کی۔۔

اوراب چلتے چلتے آخری بات۔۔مری میں دوبارہ برف باری کی پیش گوئی، مختلف شہروں کے رہنے والے اپنی اپنی بیگمات کو مری گھمانے کی کوششوں میں مصروف، خدا نجانے بیگمات اب تک مان کیوں نہیں رہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

مصنف کے بارے میں