اگر ہماری آف شور کمپنی نکلے تو ٹیکس چوری اور اگر عمران خان کی نکلے تو ٹیکس منیجمنٹ ہے، مسلم لیگ ن

 اگر ہماری آف شور کمپنی نکلے تو ٹیکس چوری اور اگر عمران خان کی نکلے تو ٹیکس منیجمنٹ ہے، مسلم لیگ ن

اسلام آباد: حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر ہماری آف شور کمپنی نکلے تو ٹیکس چوری اور اگر عمران خان کی نکلے تو ٹیکس منیجمنٹ ہے ۔ عمران خان نے ہمیشہ پارلیمان کی توہین کی وہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں ۔ عمران خان کی گرفتاری سے پہلے جیل کے مینول میں تبدیلی لارہے ہیں ۔ نوازشریف نے تین نسلوں کا حساب دیا مگر عمران خان 20سالوں کا حساب نہیں دے سکے ۔ قطری خط دو ہیں عمران خان کے پاس کیری پیکر کی پرچی بھی نہیں ہے ۔


ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے رہنماوزیرمملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری و دانیال عزیز نے پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ رہنمامسلم لیگ (ن)اور وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے جائیداد کی منی ٹریل دینے میں ناکام ہوگئے ہیں اور تحریری طور پر سپریم کورٹ کو لکھ کر دیا ہے کہ ہمارے پاس ،منی ٹرائل نہیں ہے ۔یہ خبر نہیں ہے بلکہ مکافات عمل ہے جس طرح نواز شریف نے خود کو اور اپنے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے اس دن سے آج تک پی ٹی آئی ہمارے اوپر جھوٹے الزامات لگا رہی ہے اور گالیاں دے رہی ہے اور ایک بات کہہ رہے تھے کہ منی ٹریل دے نہیں رہے مگر اب یہ ساری باتیں اپنی ذات کے لیے لکھ کر عدالت میں جمع کرا دی ہیں۔نواز شریف کا خاندان نصف صدی کا حساب دے رہا ہے دوسری طرف عمران خان صرف بیس ارب  کا حساب دینے کے لیے تیار نہیں ہیں ہم نے پچاس سال کا حساب دیا ہے مگر یہ ایک صر ف اپنی جائیداد کا حساب نہ دے پائے جو کوئی چیز خریدتا ہے وہ اس کا حساب دینے کا پابند بھی ہے حسین نواز نے اپنے دادا کے کاروبار کا بھی حساب دیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق اپنی زندگی میں جوکمایا اس کا حساب دینے کا بندہ پابند ہے مگر وراثت کے جائیداد کا حساب دینے کا  وہ  پابند نہیں  ہے یہ نواز شریف کی دیانتداری ہے کہ وراثت کاحساب دیا مگر  قانونی طور پر وہ والد کے جائیداد کا  حساب  دینے  کے  پابند  نہیں  تھے۔

طارق فضل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان جیسا منافق آدمی آج تک نہیں دیکھا، جب تک ان کی اپنی آفشور کمپنی سامنے نہیں آئی تھی تو کہتے تھے کہ آفشور کمپنیاں ٹیکس چھپانے کے لئے اور بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں مگر جب نیازی سروسز سامنے آئی تو کہتے ہیں کہ میں نے آفشور کمپنی ٹیکس مینجمنٹ کے لئے بنائی تھی۔عمران خان کی نظر میں ان کی آف شورکمپنی حلال اورہماری کمپنیاں حرام ہیں۔ دوسروں کوہدف تنقید بنانیوالے نے خود حساب دینے سے انکارکردیا، وزیر اعظم نے ہر فورم پر اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا ہے مگر عمران خان مسلسل اپنے احتساب سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ نواز شریف نے کونسی کرپشن کی ہے اور نہ اختیارات کا نا جائز استعمال کیا ہے عمران خان نے سیاسی میدان میں شکست دیکھی ہے اور آئندہ بھی شکست دیکھیں گے۔2018ء میں عمران خان نواز شریف کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لیے وہ سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ یہاں سے اب فیصلہ آئے جس سے نواز شریف میدان سے باہر چلیں جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف سپریم کورت سے بھی سرخرو ہوں گے عمران خان نے پارلیمان کی بے توقیر کیا ہے اور اس کی عزت پر حملے کیے ہیں عمران خان نے پارلیمان کی بے قیری کے مرکتب ہوئے ہیں سیاسی ماحول کوگندہ کرنے کے علاوہ عمران خان نے کچھ نہیں کیا قوم کی اخلاقی تربیت لیڈر کی ذمہ داری ہوتی ہے یہ نوجوانوں کو گمرائی اور اخلاقی دیوالیہ کی طرف لے جا رہے ہیں ہم سگنل کے چکر میں نہیں پڑتے ہیں ہم آئیں اور قانون کے مطابق چلتے ہیں نواز شریف کی نیت صاف ہے اور اﷲ پر اعتماد ہے کہ وہ سرخرو ہوں گے جے آئی ٹی کو بھی کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ وزیر اعظم نے کوئی کرپشن کی ہے۔ہم الزام لگانے نہیں حقائق بتانے کے لیے آتے ہیں اور ہمیشہ کارکردگی پر بات کرتے ہیں عمران خان نے خود سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں کہا ہے کہ ان کے پاس کوئی منی ٹریل نہیںہے۔عمران خان ذاتی اثاثے کے بارے میں لاجواب ہیں ۔نواز شریف نے وراثت کے بارے میں بھی جواب دیا۔ایک سوال کے عمران خان اشتہاری ہے کب گرفتار کیا جا رہا ہے جس پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری سے پہلے جیل کے مینوال میں تبدیلی کر رہے ہیں ۔

وزیر کیڈ نے کہا کہ عمران خان کرکٹ چھوڑ کر سیاست میں آئے ہیں لیکن مسلسل اس کی شاخیں کاٹ رہے ہیں۔دانیال عزیز نے خطاب کرتے ہوئے اقامہ کا الزام کی برعکس الیکشن کمیشن کو یہ جمع کرایا گیا تھا کوئی چیز چھپائی نہیں گئی تھی مگر جے آئی ٹی نے اس کو آف شور قرار دیا تھا اور یہ تاثر دیا گیا کہ نواز شریف مالک ہیں یہ بھی غلط ثابت ہو گیا ہے یہ معاملہ عوام کے سامنے کھل کر سامنے آ گیا ہے عمران خان نے جو دس ارب کا الزام لگایاا تھا وہ آج ان کی تقریر سے غائب ہے 44 دفعہ نجم سیٹھی نے عمران خان کو نوٹس کیا ہے مگر یہ پیش نہیں ہوئے ہیں۔

دانیال عزیز نے کہا کہ عمران خان کا نام الزام خان رکھا گیا ہے جو درست ہے ۔عمران خان نے بھارتی شہریوں اور سرائیلی شہریوں سے فنڈز لیے ہیں جو غیر قانونی ہے اور اس سے پوری جماعت کالعدم ہو جاتی ہے۔عمران خان نے ٹویٹر پر ان لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا کہ آپ نے مجھے فنڈز دیئے ہیں عمران خان نوجوانوں کو جواب دیں جن کو وہ ورغلا رہے ہیں عمران خان الیکشن کمیشن تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی ریکارڈ تبدیل کر سکتے ہیں ۔دانیال عزیز نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان مرد کے بچے بنو اور دس ارب روپے کے حوالے سے پاکستانی عوام کو بتائو کہ دس ارب روپے کا آپ کوکس نے کہا تھا۔سپریم کورٹ نے ان کو ان کوکہا تھا کہ اپنا جواب جمع کروائیں اگر جواب نہیں دیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ منی لانڈرنگ کی گئی ہے ۔انہوں نے پندرہ مرتبہ اپنا بیان تبدیل کیا ہے ہر جگہ صرف کیری پیکر کہتے ہیں عمران خان کی ہر آمدن کے ذرائع کیری پیکر ہے مگر کیری پیکر کا ریکارڈ ہی نہیں ہے ان کے پاس ایک لاکھ 17 ہزارپائونڈ کاریکارڈ ہی نہیں ہے۔25 ہزار پاؤنڈ کے جو دستاویزات جمع کروائے گئے ہیں وہ بھی غیر تصدیق شدہ ہیں اور جس کمپنی کے دستاویزات جمع کروائے گئے ہیں وہ اس وقت موجود ہی نہیں تھے۔

عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ اب آپ کو کیسے محسوس ہو رہا ہے ۔کرکٹر کلب کا ریکارڈ موجود نہیں جو جبکہ وہ موجود ہے ہم جلد عوام کو دکھائیں گے ہر چیز میں فریب اور توڑموڑ کرکے پیش کرنا عمران خان کا طریقہ کار ہے مگر اب عمران خان کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتے اپنے ثبوت کے لیے انہوں نے مشتاق احمد کو بھی بدنام کر دیا ہے مشتاق احمد کے دستاویزات جمع کروا کر کہتے ہیں یہ میرا ثبوت ہے۔عمران خان نے جودستاویزات جمع کروائی ہے وہ کسی نے ہاتھ سے لکھ کر ان کو دی ہیں۔دانیال عزیز نے کہا کہ اس بات کا بھی کمیشن بننا چاہیے کہ عمران خان ایک سیٹ کے بعد کیسے صوبائی حکومت بنا لیتاہے سٹپنی وکیل جس کو اب موٹو گینگ کا نہیں پتہ چلتا ہے اس نے کہاتھاکہ نیازی سروسز کو ہم نے چھپایا ہے جبکہ انورمسعود نے خود مانا ہے کہ پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈزاتنی نہیں ہے جتنی بتائی جا رہی ہے۔عمران خان ہمیشہ دوسری چادر کی بات کرتے ہیں دوسری چادر تو جے آئی ٹی کو بھی نہیں ملی ہے ۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں