نسل پرستی کا سامنا کرنے پر جرمن اسٹار فٹبالر اوزل کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

نسل پرستی کا سامنا کرنے پر جرمن اسٹار فٹبالر اوزل کا ریٹائرمنٹ کا اعلان
ترک صدر کے ساتھ تصویر کو جرمن میڈیا پر اچھالا گیا اور مختلف رنگ دیا گیا، اوزل۔۔۔۔فوٹو/ بشکریہ سی این این

برلن: ترک صدر سے ملاقات پر تنقید سے مایوس اسٹار فٹ بالر مسعود اوزل نے جرمن فٹبال ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔


ترک نژاد جرمن فٹبالر نے انٹر نیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر ایک طویل پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے نسلی منافرت پر مبنی رویے کا ذکر کیا۔

مزید پڑھیں: سنگاپورایئر لائنزچوتھی بار دنیاکی بہترین ایئر لائن قرار

مسعود اوزل نے لکھا کہ ان کے آبادؤ اجداد کا تعلق ترکی سے ہے اور ان کے دو دل ہیں جو ایک ترکی اور ایک جرمنی میں دھڑکتا ہے۔

جرمن فٹبالر نے بتایا کہ انہوں نے رواں سال مئی میں لندن میں ہونے والی خیراتی تعلیمی ادارے سے متعلق تقریب کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی اور یہ ان کی دوسری ملاقات تھی، اس سے قبل انہوں نے 2010 میں برلن میں ترکی اور جرمنی کے درمیان ہونے والے میچ سے قبل ملاقات کی تھی۔

مسعوز اوزل نے کہا کہ ان کی ترک صدر کے ساتھ تصویر کو جرمن میڈیا پر اچھالا گیا اور مختلف رنگ دیا گیا۔ ان کے حوالے سے مختلف باتیں کی جانے لگیں یہاں تک کہ انہیں دھوکے باز اور جھوٹا کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر سے ملاقات کا ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا اگر اس موقع پر کسی بھی ملک کا صدر ہوتا تو وہ اسی طرح ملتے جس پر وہ رجب طیب اردوان کے ساتھ ملے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلا میں بھیجے گئے سیٹلائٹس نے کامیابی سے کام کا آغاز کردیا

یاد رہے کہ 2018 کے فیفا ورلڈ کپ میں دفاعی چیمپئن جرمنی کی ٹیم اپنے گروپ میچز میں ہی ایونٹ سے باہر ہو گئی تھی جس کے بعد کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا سامنا تھا اور خاص طور پر جرمن میڈیا نے مسعود اوزل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں