'نجی میڈیکل کالجوں کو عطیات وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی'

'نجی میڈیکل کالجوں کو عطیات وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی'

نجی میڈیکل کالجوں کو داخلوں کے لیے بندر بانٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی، چیف جسٹس پاکستان

لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نجی میڈیکل کالجوں کو کسی صورت عطیات وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجز کے طلبہ سے اضافی فیسوں کی وصولی کے خلاف ازخود کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اضافی فیسوں کی مد میں وصول 745 ملین روپے طلبہ کوواپس کر دیئے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: عام انتخابات 2018، ملک بھر میں جاری انتخابی مہم کا آج آخری روز

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے ایک سو کالجز کے 23 ہزار طلبہ کا ڈیٹا حاصل کیا ہے۔ نجی میڈیکل کالجز نےعطیات، فارن کوٹہ اور اضافی فیسوں کی مد میں طلبہ سے پیسے بٹورے۔

 

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ نجی میڈیکل کالجوں کو کسی صورت عطیات وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مرکزی داخلہ پالیسی کا معیار طے کیا جائے گا اور داخلوں کے لیے بندر بانٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کو حکم دینا پڑا یا قانون سازی کروانا پڑی تو بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ نجی میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا بیک ڈور بند کر دیا جائے گا جبکہ پی ایم ڈی سی جو بھی معیار قائم کرے گی اسے ہر صورت نافذ کیا جائے گا اور کوتاہی کے مرتکب نجی میڈیکل کالجوں کو بھاری جرمانے ادا کرنا پڑیں گے۔

 

یہ خبر بھی پڑھیں: نواز شریف، مریم اور صفدر کے گھر کو سب جیل قرار دینے کیلئے درخواست دائر

عدالت نے پی ایم ڈی سی اور دیگر فریقین کو آج ہی اجلاس کر کے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں