الیکشن 2018: پاکستان کے سب سے مہنگے انتخابات

الیکشن 2018: پاکستان کے سب سے مہنگے انتخابات
image by facebook

اسلام آباد:ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات پر آنے والے اخراجات گزشتہ 2 الیکشن پر خرچ ہونے والی مجموعی رقم سے 3 گنا بڑھ چکے ہیں، جس میں زیادہ تر رقم سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر خرچ کی جائے گی۔


الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اندازے کے مطابق انتخابی عمل پر 21 ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہونے کا امکان ہے، جس میں سے 10 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد معمول کے انتخابی عمل، جس میں پولنگ اسٹاف کی تربیت، الیکشن میں فرائض انجام دینے والے انتخابی عملے کے معاوضے، انتخابی مواد کی چھپائی، مواصلات اور دیگر معاملات کی مد میں خرچ ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے تخمینے کے مطابق فوج کو ادا کیے جانے والے فنڈ کی لاگت بھی اتنی ہی رہنے کی توقع ہے، تاہم اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے بعد ادائیگیوں کے بل کی بنیاد پر ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:سندھ میں تحریک انصاف اور جے یو آئی (ف) کا گٹھ جوڑ

 واضح رہے کہ 2008 میں ہونے والے عام انتخابات پر ایک ارب 84 کروڑ روپے کے اخراجات آئے تھے، جو 2013 کے عام انتخابات میں بڑھ کر 4 ارب 73 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی، یعنی اس میں تقریباً 157 فیصد اضافہ ہوا تھا.

2008 میں پاک فوج کو 10 کروڑ 20 لاکھ روپے سیکیورٹی اخراجات کی مد میں ادا کیے گئے تھے جبکہ 2013 میں سیکیورٹی کے لیے ادا کی جانے والی رقم 70 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی۔

خیال رہے کہ ان اخراجات میں پولیس سمیت مقامی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی سطح پر کیے جانے والے حفاظتی انتظامات کے اخراجات شامل نہیں۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری بابر یعقوب فتح محمد نے ڈان کو بتایا کہ انتخابی عمل کے اخراجات میں واضح اضافہ بیرونِ ملک سے برآمد کیے جانے والے واٹر مارک والے بیلٹ پیپر کے باعث ہوا، اس کے ساتھ انتخابی عملے کو دیا جانے والا معاوضہ بھی 3 ہزار روپے سے بڑھا کر 8 ہزار روپے کردیا گیا ہے ، واضح رہے کہ 2013 میں پریزائیڈنگ افسر کو الیکشن ڈیوٹی کا معاوضہ 3 ہزار روپے ادا کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے:الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف عمران خان کی درخواست مسترد

 سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ای سی پی نے حالیہ انتخابات میں خواتین پریزائیڈنگ آفیسرز کو الیکشن والے دن انتخابی مواد اٹھانے کے لیے معاون کے طور ایک چپراسی فراہم کیا ہے جس پر مزید اخراجات آئیں گے، اس اقدام کے بعد مرد پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے بھی اسی طرز کے معاون خدمت گار فراہم کرنے کا مطالبہ سامنے آیا۔

اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن کے ترجمان چوہدری نسیم قاسم کا کہنا تھا کہ اس وقت انتخابات پر آنے والی حتمی لاگت کے حوالے سے کچھ کہنا ممکن نہیں کیوں کہ انتخابی سرگرمیاں گزشتہ ایک سال سے جاری ہیں اور اس درمیان 2 وفاقی بجٹ آچکے ہیں۔

اس سلسلے میں پہلے مالی سال میں انتخابی مواد، برآمد شدہ واٹر مارک پیپر، اسٹیشنری، لفافوں کی چھپائی، انتخابی دستاویزات اور الیکشن اسٹاف کی تربیت کے اخراجات شامل تھے۔

رواں مالی سال میں انتخابی تیاریوں کے لیے مختص کی جانے والی رقوم میں انتخابی معاوضوں اور اعزازی رقوم، انتخابی مواد کی ترسیل اور رائے شماری والے دن کے انتظامات کی مد میں آنے والے اخراجات شامل ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ انتخابات میں جہاں پریزائیڈنگ افسر کا اعزازیہ 3 ہزار سے بڑھا کر 8 ہزار کیا گیا وہیں پولنگ افسر کا اعزازیہ بھی 3 ہزار کے بجائے 6 ہزار روپے کیا گیا۔