عام انتخابات2018 : پنجاب کے اہم حلقے کون سے ہیں؟

عام انتخابات2018 : پنجاب کے اہم حلقے کون سے ہیں؟

image by facebook

لاہور:آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے۔ قومی اسمبلی میں اس صوبے کی 141 نشستیں ہیں۔ اس صوبے میں لگ بھگ چھ کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹر ہیں جو 25 جولائی کو اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

 

این اے 60:

یہ وہ حلقہ ہے جہاں سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن حنیف عباسی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔  انہیں حال ہی میں ایفیڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اب الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت اس حلقے میں الیکشن ملتوی کر دیے گئے ہیں ,  اسی حلقے سے شیخ رشید احمد بھی کھڑے تھے۔ توقع کی جارہی تھی کہ حیف عباسی اور شیخ رشید کا مقابلہ کافی سخت ہوگا۔ شیخ رشید نے انتخابات کے ملتوی ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

این اے 73:

سیالکوٹ کے اس حلقے میں اہل ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 65 ہزار چھ سو ستاسی ہے۔ اس حلقے کے اہم ترین امیدوار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف ہیں جو پہلے کئی مرتبہ اس حلقے سے کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس مرتبہ ان کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے محمد عثمان ڈار سے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی اس حلقے سے اپنے اپنے امیدواروں کو کھڑا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:الیکشن 2018: پاکستان کے سب سے مہنگے انتخابات
 
 
این اے 78:

ناروال کے اس حلقے میں دو لاکھ 91 ہزار تین سو اٹھاون وٹرر رجسٹرڈ ہیں۔ اس حلقے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا  مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ابرار الحق سے ہوگا۔ دونوں امیدوار اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں اہمیت کے حامل ہیں اور بھر پور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

این اے 106:

فیصل آباد کے اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ کھڑے ہیں۔ ان کا سخت مقابلہ یہاں پاکستان تحریک انصاف کے رکن نثار احمد سے ہوسکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں  نثار احمد ایک مقبول لیڈر ہیں اور وہ رانا ثنا اللہ کو سخت مقابلہ دے سکتے ہیں۔ اس حلقے میں لگ بھگ دو لاکھ تیس ہزار ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

این اے 108:

فیصل آباد کے حلقے این اے 108 میں لگ بھگ دو لاکھ چالیس ہزار ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی کا پاکستان تحریک انصاف کے فرخ حبیب کے ساتھ سخت مقاملہ متوقع ہے۔

این اے 129:

لاہور کے اس حلقہ میں پی ایم ایل این کے رکن اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن علیم خان کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ دونوں امیدوار اپنے حلقے میں مقبول ہیں۔ اس حلقے میں دو لاکھ بیس ہزار ووٹرز رجسٹر ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:سندھ میں تحریک انصاف اور جے یو آئی (ف) کا گٹھ جوڑ
 
 
این اے 131:

لاہور کے اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے رکن اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ہے۔ سعد رفیق مقبول لیڈر ہیں اور بھر پور انداز سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان بھی بھاری اکثریت سے اس حلقے میں کامیابی کے لیے کافی پر امید ہیں۔ اس حلقے میں لگ بھگ دو لاکھ ووٹرز  اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

این اے 132:

لاہور کےا س حلقے سے نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف امیدوار ہیں۔ شہباز شریف نہ صرف اس حلقے میں بلکہ ملک بھر میں پر زور انتخابی مہم چلا رہے ہیں،  لاہور کو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، تجزیہ کاروں کی رائے میں شہباز شریف اس حلقے سے جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہاں ان کا سخت مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری محمد منشا سندھو  اور پاکستان پیپلز پارٹی کی ثمینہ خالد گھرکی سے ہوگا۔ اس حلقے میں لگ بھگ ایک لاکھ نوے ہزار ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

 این اے 156:

ملتان کے اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن مخدوم شاہ محمود قریشی کھڑے ہیں،  وہ مقبول عوامی لیڈر ہیں اور بڑی تعداد میں انہیں اس حلقے میں ووٹ مل سکتے ہیں۔ اس حلقے میں ان کا سخت مقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن عامر سعید انصاری سے ہے۔ اس حلقے میں لگ بھگ ڈھائی لاکھ  ووٹر ہیں۔

این اے 192:

ڈیرہ غازی خان کے اس حلقے سے شہباز شریف انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس حلقے میں ان کا کڑا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے سردار محمد خان لغاری سے ہو سکتا ہے۔ یہاں لگ بھگ ایک لاکھ ستر ہزار  ووٹر ہیں۔