جج ویڈیو اسکینڈل، ایف آئی اے کو تین ہفتوں میں مکمل تحقیقات کرنے کا حکم

جج ویڈیو اسکینڈل، ایف آئی اے کو تین ہفتوں میں مکمل تحقیقات کرنے کا حکم
سارے معاملے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی تو کی جا سکتی ہے، چیف جسٹس پاکستان۔۔۔۔۔۔فوٹو/ سوشل میڈیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک کے ویڈیو کیس پر ایف آئی اے کو تین ہفتوں میں مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل نے دلائل دیے۔


اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 16 جولائی کو ارشد ملک نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت ایف آئی اے کو درخواست دی جس پر ایف آئی اے نے سائبر کرائم کی شقوں کے تحت مقدمہ درج کیا۔ اس میں شق 20، 21 اور 24 کا اطلاق کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جج ارشد ملک بیان حلفی جمع کرا چکے ہیں۔ ایف آئی اے کو شکایت بھی درج کرا چکے ہیں اور ایف آئی اے سائبر کرائم کے تحت مقدمہ بھی درج کر چکی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سائبر کرائم کی سزا 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جُرمانہ ہے۔ فحش وڈیو یا تصویر بنانے کی سزا 5 سال قید اور 6 لاکھ روپے جُرمانہ ہے اور کسی کو نقصان پہنچانےکے لیے ویڈیو یا تصویر پھیلانے کی سزا 3 سال قید اور 10 لاکھ جرمانہ ہے جب کہ الیکٹرانک جعل سازی پر تین سال قید اور ڈھائی لاکھ روپے جُرمانہ ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے ملزم طارق محمود کو اس کیس میں گرفتار کیا ہے کیونکہ انہوں نے میاں سلیم رضا نام کے شخص کو ویڈیو فروخت کی اور سلیم رضا نے یہ ویڈیو ناصر بٹ کو بیچ دی۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے طارق محمود کا ریمانڈ لے کر جیل بھیج دیا ہے جب کہ ناصر بٹ اور سلیم رضا دونوں ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ نواز شریف نے اپیل کب دائر کی تھی۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جج کے مطابق نواز شریف سے ملاقات اپریل میں ہوئی تھی اور انہوں نے بروقت اپیل دائر کی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر اپیل اپریل میں دائر ہوئی تھی تو جج نے اپریل میں اس کا جائزہ کیسے لیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آڈیو وڈیو ریکارڈنگ الگ الگ کی گئی۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پریس کانفرنس میں پیش کی جانے والی ویڈیو جعلی تھی۔ آڈیو ویڈیو کو مکس کرنے کا مطلب ہے اصل مواد نہیں دکھایا گیا اگر جج صاحب کہتے ہیں کہ یہ اصل ویڈیو نہیں تو اصل وڈیو سامنے آنی چاہیے۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا اصل وڈیو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سارے معاملے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی تو کی جا سکتی ہے جو چیئرمین نیب بھی کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ فریقین کے الزامات کی حقیقت جاننا چاہتی ہے۔ عدالت نے تمام الزامات کی سچائی کا جائزہ لینا ہے اور ہم نے عدالت کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے کام کرنا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق دائر درخواستوں کی مخالفت کی ہے۔ قانونی فورم دستیاب ہے تو کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں جب کہ پیمرا قانون کا اطلاق ٹی وی چینل پر ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کسی نے ہائیکورٹ میں کوئی درخواست نہیں دی حالانکہ ملزم جیل میں بیٹھا ہے اگر رہائی کے لیے ویڈیو منظرعام پر لائی گئی تو ہائیکورٹ میں کوئی درخواست کیوں نہیں دی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک آپشن یہ بھی ہے کہ ہم تمام درخواستیں خارج کر دیں اور آخری آپشن یہ ہے کہ عدالت اس کی تحقیقات کروائے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ویڈیو اسکینڈل کیس میں ایف آئی اے تین ہفتوں میں انکوائری مکمل کرے اور ہم اندھیرے میں ہاتھ پاؤں نہیں چلانا چاہتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔