اسلام آبادہائیکورٹ کاجھیل کنار ے نیوی سیلنگ کلب فوری سیل کرنے کا حکم

اسلام آبادہائیکورٹ کاجھیل کنار ے نیوی سیلنگ کلب فوری سیل کرنے کا حکم

اسلام آباد :ہائیکورٹ نے جھیل کنارے نیوی سیلنگ کلب فوری سیل کرنے کاحکم دے دیا جبکہ سی ڈی اے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے اور بورڈ ممبران سے حلف نامے طلب کرلئے.


عدالت نے پاکستان نیوی کلب کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم بھی دے دیا۔جمعرات کواسلام آباد ہائیکورٹ میں راول جھیل کے قریب غیرقانونی تعمیرات کے کیس پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جھیل کنارے نیوی سیلنگ کلب فوری سیل کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ سی ڈی اے کے ذریعے کلب کو فوری سیل کرائیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور چیئرمین سی ڈی اے اور بورڈ ممبران سے حلف نامے طلب کرلئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کس اتھارٹی کے تحت پاکستان نیوی کمرشل پروجیکٹ چلا رہی ہے؟عدالت نے آئندہ سماعت پر مطمئن کرنے کی ہدایت کی۔پاک بحریہ کے نمائندے نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں کچھ وقت دیں ہم جواب جمع کرائیں گے۔

اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ کس بات کا وقت، اس عدالت سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، آپکی بہت عزت ہے آپ کے شہیدوں کیلئے ہم کسی قسم کی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں،یہ قبائلی علاقے نہیں،ملک کا دارالحکومت ہے۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے مزید ریمارکس دئیے کہ سی ڈی اے کا جواب الارمنگ ہے اور وہ اتھارٹی منوانے میں ناکام رہے۔

اس موقع پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو روک دیا اور کہا کہ آپ کیوں اس چیز کا دفاع کررہے ہیں جس کا دفاع نہیں کرسکتے،پہلے جا کرعمارت سِیل کرائیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان نیوی کلب کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم بھی دے دیا۔

سی ڈی اے ممبر بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے راول جھیل کے قریب تعمیرات کی اجازت دی تھی۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے شدیداظہار برہمی کیا کہ میں جو آپ سے پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دیں،زمین کاالاٹمنٹ لیٹرکہاں ہے؟۔ ممبر بورڈ سی ڈی اے نے عدالت کوجواب دیا کہ الاٹمنٹ لیٹر نہیں ہے۔

اس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ پھرسی ڈی اے نے کیا کارروائی کی۔ممبر بورڈ سی ڈی اے نے کہا کہ ہم نے نوٹسز دیے ہوئے ہیں۔چیف جسٹس نے سی ڈی اے ممبر بورڈ سے استفسارکیا کہ کیا مطلب نوٹس دیئے  ہوئے ہیں،جائیں اور جا کر غیرقانونی عمارتیں کو گرائیں۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ غریب آدمی کے ساتھ سی ڈی اے کیا کرتا ہے یہ دوہرا معیار کیوں؟ بتائیں نیوی سیلنگ کلب کی عمارت قانونی ہے یا غیرقانونی۔

ممبر بورڈ سی ڈی اے نے جواب دیا کہ میں کوئی قانونی بندہ نہیں ہوں جو کوئی رائے دوں، نیوی سیلنگ کلب غیرمنظور شدہ ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ غیر منظورشدہ کیا ہوتا ہے،اس کا مطلب ہے کہ یہ غیرقانونی ہے، اگر کلب سیل نہ کیا گیا تو آئندہ سماعت پر سیکرٹری کابینہ عدالت میں پیش ہوں، قانون کی بالادستی ہوگی کوئی قانون سے بالاتر نہیں، سی ڈی اے ممبر بورڈ بتانے میں کترا رہے ہیں کہ کمرشل بلڈنگ پاکستان نیوی کی ہے اور غیرقانونی ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی ۔