ڈالر کی کہانی

ڈالر کی کہانی

اس وقت سیاسی بے یقینی اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کاروباری طبقہ،اور خصوصا انویسٹرز کے لیے ماحول کو بے یقینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔یہ بات میں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ روپیہ مزید نیچے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 225 سے 230کی سطح پر آچکا ہے،دوسری تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ،جو تین سرکردہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں میں سے ایک ہے،پاکستان کی ریٹنگ مستحکم سے منفی کر دی ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن اور سیاسی حالات کو اس تنزلی کے بنیادی اسباب قرار دیا ہے۔

سیاسی بے یقینی اور موجودہ بڑھتی ہوئی ڈالر کی اُڑان کے باوجود کسی بھی سیاسی جماعت کے حکمران کی طبیعت میں کسی بھی طرح کا ٹھہرائو ،اوراس غیر یقینی صورتحال سے نکلنے کے لیے کسی بھی طرح سے باہمی مشاورت یا متفقہ رائے سے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے بالکل بھی کوئی مثبت سوچ نہیں ہے ۔اسوقت اس صورتحال کا ذمہ دار (ن)لیگ پی ٹی آئی کو قصور وار ٹھہرا رہی ہے اور پی ٹی آئی (ن) لیگ کو تجربہ کار ہونے کا طعنہ دے رہی ہے ان سب باتوں کے بیچ جو خاص بات ہے وہ صرف کرسی کی جنگ ہے کسی بھی سیاسی جماعت کو ملکی ترقی عوامی مسائل یا معیشت کو بہتر کرنے کی فکر نہیں ہے۔کیونکہ ہر دور میں ہر حکمران نے وہی کام کیے جو اُن کی جماعت یا مفاد کے لیے بہتر تھے اگر گہرائی سے موازنہ کریں تو سب کے کام تقریباً ایک سے ہی رہے ،ہیں۔

مزید بات کو کرنے سے پہلے میں پاکستانی تاریخ اور ڈالر کی کہانی کو یاد کرانا چاہوں گی کہ ہر دور میں کس طرح سے ڈالر کو پر لگتے رہے۔ گذشتہ 75برس میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی تاریخی اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ نا مساعد حالات کے باوجود قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بھارت کے مقابلے میں ہماری معیشت اور کرنسی بہت بہتر تھی۔

آزادی کے غالباً 7ماہ کے بعد یکم اپریل 1948ء کو سٹیٹ بینک کا قیام عمل میں آیاجس کے بعد پالستان ایکسچینج کا کنٹرول مرکزی بینک نے سنبھال لیا۔پھر18ستمبر1949عالمی معیشت کا ایک بڑا ،اہم فیصلہ ہوا ،جب برطانیہ نے ڈالر کے مقابلے پائونڈکی قیمت کم کرنے کا اعلان کیا اس کے بعد پائونڈ کم ہو کر آٹھ اعشاریہ تین ڈالر کے برابر ہو گیا۔اُس وقت برصغیر پاک و ہند کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا ،اُس وقت بھارت سمیت کئی ممالک اپنی کرنسی کم کرنے پہ مجبور ہوئے،مگر نوزائیدہ مملکت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

اس فیصلے کو عالمی طور پہ بہت حیرت کی نگاہ سے دیکھا گیا،اس وقت بھارت نے جس سے ہمارے بہت سے مالی معاملات چل رہے تھے،اس فیصلے کو مسترد کیا اور پاکستان سے ہر طرح کی تجارت کو منقطع کر دیا،بھارت نے جب محسوس کیا کہ پاکستان اپنی پالیسی پہ قائم ہے پھر تھک ہار کر 25فروری 1951ء کو اس نے غیر مشروط پاکستانی کرنسی کی قدر تسلیم کر لی ،جس کے بعد بھارتی کرنسی ایک سو روپے کے مقابل 78 روپے آٹھ آنے ایک پیسہ ہو گئی،یہ اُس وقت کی بات ہے جب لیاقت علی خان وزیر اعظم بنے تھے،اُنہوں نے اپنے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہ ملکی کرنسی کی قیمت گھٹانے کے لیے کافی دبائو ڈالا جا رہا ہے اور ہم کسی بھی طرح دبائو میں نہیں آئیں گے۔

اگر ہم 1947سے اکتوبر 1958تک کے جمہوری اور پھر 1971تک کے فوجی حکومت کا جائزہ لیں ،سیاسی و معاشی اتار چڑھائو کے باوجود ان ادوار میں روپے کی قدر کافی بہتر رہی۔پھر 1971ء کا دور آیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی،اور چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو وزارت عظمی کے منصب پہ فائز ہوئے ،پاکستانی تاریخ کا یہ نازک ترین دور تھا ،11 مئی 1972کو بھٹو کے دور میں ڈالر کی قیمت چار روپے ستر پیسے سے بڑھ کر گیارہ روپے مقرر کر دی،پھر یہ رد وبدل جاری رہا جولائی1977کو پی پی پی کے پہلے دور حکومت کے اختتام تک ڈالر 9روپے 90پیسے ہوا۔پھر 1977 جنرل  ضیاء الحق کا دور آیا ،1978تک ڈالر 9روپے نوے پیسے ہی رہا ۔17اگست 1988کو جب جنرل ضیاالحق کے طیارے کا حادثہ ہوا اس وقت ڈالر کی قیمت 18روپے چھتیس پیسے تھی اُس دور میں ڈالر دس روپے مہنگا ہوا۔

1988طویل جدوجہد کے بعد پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کو قیادت کا موقع ملا ۔2دسمبر1988کو وزارت عظمی کا حلف اُٹھایا تو ڈالر کی قیمت فروخت 18روپے 81پیسے اور خرید 18روپے 61پیسے تھی، 6اگست1990کو جب ان کی حکومت برطرف کی گئی تو ڈالر 21روپے85پیسے کا تھا ۔پھر میاں نواز شریف کا دور آیا اس دور میں ڈالر کی خرید 41روپے 5پیسے تک پہنچ گئی اس دور میں بہت ہی تلخ فیصلے بھی ہوئے میاں نواز شریف کے اس دور حکومت میں سرکاری اداروں کی نجکاری سمیت کئی بڑے منصوبے شروع ہوئے۔

جب 1999میں حکومت کے خاتمے کا وقت آیا تو ڈالر کی قیمت فروخت 54روپے34پیسے اور خرید 54روپے 39پیسے تھی۔ پھر 12اکتوبر 1999کو جنرل پرویز مشرف کا دور آیا گو اس دور کو ایک ڈکٹیٹر کا دور کہا جاتا ہے مگر اس دور میں ڈالر کو گرفت میں رکھا گیا جب ڈالر گرفت میں رہا تو پیٹرول کی قیمتوں میں بھی اعتدال رہا اس دور میں جتنی ترقی ہوئی شائد ہی وہ دور دوبارہ کبھی آئے سائیکل والا موٹر سائیکل او رموٹر سائیکل والا گاڑی پہ آگیا تمام ادوار کا موازنہ کیا ہر جمہوری دور میں ڈالر کو پر لگتے ہی چلے گئے اور دن بہ دن روپے میں گراوٹ آتی ہی چلی گئی ان تمام ادوار میں ایک چیز ان سب جماعتوں سے پوچھنا تو بنتی ہے کہ آیا ہر دور میں آپ کی بہتری کی طرف اور ملک کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کی طرف لانے کی کوشش کی اور موجودہ صورتحال کو بھی کنٹرول کرنے کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں دی گئی ۔

پی ٹی آئی جو گزشتہ دور میں اقتدار پر براجمان تھی آج وہ طعن و تشنیع سے کام لے رہی ہے اپنے دور میں اُنہوں نے کونسے تیر ما دئیے ۔

اب موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی یہ بات کہہ دی کہ جتنا قرض اس جماعت نے اپنے دور حکومت میں لیا وہ پچھلے 75 سال میں نہیں لیا گیا ،میرا یہ کہنا ہے تاریخ کی تمام فیصلوں سے لے کر اب تک کیا کوئی ان سیاستدانوں میں لیڈر موجود ہے جو معیشت کی اس ڈوبتی کشتی کو سنبھالا دے سکے اور ملک کو بہتری کی طرف لا سکے ۔

ان تمام حالات میں سیاستدانوں کی ہٹ دھرمی معیشت کو مزید تباہی کے گڑھے میں گرائے گی ان حالات میں جب معاشی بے یقینی انتہا کو پہنچ چُکی ہے ہمارے رہنمائوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا مل بیٹھ کر کچھ فیصلے طے کرنا ہونگے، حکومت اس وقت یہ دعوے کر رہی ہے کہ اُنہوں نے معاشی بد حالی کے عمل کو روکا ہے مگر عملی طور پہ ایسا نظر نہیں آرہا۔یہ بات بھی قدرے درست ہے کہ (ن) لیگ ووٹ آف نو کانفیڈنس لے آئی اور خود ہی کھائی میں جا گری پی ٹی آئی کے کئے بہت سے فیصلے اب (ن) لیگ کو بھگتنا پڑ رہے ہیں اگر پی ٹی آئی کو دور اقتدار پورا کرنے دیا جاتا تو اس کا نام و نشان مٹ جانا تھا ایک بار پھر سے (ن) لیگ نے ان کو انرجی دے دی۔ اب ڈولتی معیشت کو ایک ہی صورت میں سنبھالا جا سکتا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی کا باب بند کیا جائے اور ملک میں اتفاق رائے،ہم آہنگی سے فیصلے کیے جائیں اور رواداری کو تقویت دی جائے۔