فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دھمکانے اور اس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی: احسن اقبال

فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دھمکانے اور اس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی: احسن اقبال
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو دھمکانے کی کوشش کی، حکومت الیکشن کمیشن کو نیب کی طرح کا ادارہ بنانا چاہتی ہے، انہوں نے قومی ادارے ایک ایک کرکے تباہ کر دیئے۔

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاحسن اقبال نے کہاکہ ایک سال میں چار چار سیکرٹریز کو تبدل کیا گیا، ہمیں تو خطرہ ہے کہ یہ کہیں پاکستانی ایٹمی پروگرام کو گروی نہ رکھ دیں، حکومت نے جو بجٹ پیش کیا اس میں مہنگائی اور بیروزگاری کا حل نہیں ہے، یہ حکومت ملک کو کنگال کرچکی ہے، پی ٹی آئی کے اپنے اراکین کہہ رہے ہیں اس حکومت نے کرپشن کی، یہ حکومت اپوزیشن کے خلاف مقدمات بنا رہی ہے۔

احسن اقبال نے کہاکہ احتساب عدالت کی کارروائی کو ٹی وی پر چلایا جائے، آج پھر نارووال سپورٹس سٹی کے جھوٹے مقدمہ میں پیش ہوا ہوں، پاکستانی قوم دیکھ چکی ہے کہ 3 سال کے بعد بھی کوئی ٹھوس کیس نہیں جبکہ قومی منصوبے کو نقصان پہنچانے والے حکومت میں بیٹھے ہیں اور قومی منصوبے بنانے والے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر معاملے کو پچھلی حکومت پر ڈال دیتی ہے، پچھلے 3 ضمنی انتخابات میں حکومت کو شکست ہوئی ہے، یہ الیکٹرانک سسٹم میں چپ لگا کر آر ٹی ایس والا کام لینا چاہتے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات کے بیانات کی مذمت کرتا ہوں جنہوں نے الیکشن کمیشن کودبانے کی کوشش کی، الیکشن کمیشن کو آزاد اور خود مختار ہونا چاہیے، حکومت الیکشن کمیشن کو نیب کی طرح کا ادارہ بنانا چاہتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی اگلا الیکشن ہارنے کے ڈر سے الیکٹرانک مشین متعارف کروا رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو ناکارہ کرنا چاہتی ہے، یہ اپنی مرضی کی ترامیم لانا چاہتے ہیں جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ 

احسن اقبال کاکہنا تھا کہ گڈانی پر آنے والا شپ بھی کرپشن کی کہانی ہے، جس جہازکو بنگلہ دیش اور بھارت نے روکا، حکومت نے پیسے لے کر اسے گڈانی آنے دیا، جہاز میں زہریلا مواد تھا جس سے لوگوں کو نقصان پہنچے گا، پاکستانی بزنس مین اپنا کاروبار باہر ملک لے کر جارہے ہیں، اس طرح کے حالات میں کون سرمایہ کاری کرے گا؟ پاکستان کوئی پرائمری سکول نہیں جس پر تجربات کئے جائیں۔