لاہور ہائیکورٹ نے خلع سے متعلق قانونی نکات پر فیصلہ جاری کر دیا

لاہور ہائیکورٹ نے خلع سے متعلق قانونی نکات پر فیصلہ جاری کر دیا
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے خلع سے متعلق قانونی نکات پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیملی کورٹ سے جاری خلع کے فیصلے ناقابل اپیل ہوتے ہیں اور اپیل کا حق نہ دینا بیوی کو لمبی مقدمے بازی سے بچانا ہے۔ 

لاہور ہائیکورٹ میں ہربنس پورہ کے شہباز نے بیوی فاخرہ کی جانب سے خلع کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی جس پر جسٹس احمد ندیم ارشد نے 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ 

شہری شہباز نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ لاہور نے میری مرضی کے بغیر خلع کا فیصلہ دیا، شادی بچانے کیلئے بیوی سے معافی مانگنے کو تیار تھا لیکن معافی مانگنے سے قبل فیملی کورٹ نے خلع کا فیصلہ دیدیا۔ خاتون فاخرہ نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا کہ خاوند تشدد کرتا ہے لہٰذا ساتھ نہیں رہ سکتی۔

لاہور ہائیکورٹ نے خلع سے متعلق قانونی نکات پر فیصلے میں کہا ہے کہ فیملی کورٹ سے جاری خلع کے فیصلے ناقابل اپیل ہوتے ہیں اور فیملی کورٹ ایکٹ کے تحت اپیل کا حق نہ دینا بیوی کو لمبی مقدمے بازی سے بچانا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جہاں قانون میں اپیل کا حق نہ ہو وہاں ہائیکورٹ میں شہادتوں کی دوبارہ جانچ کیلئے درخواست بھی ناقابل سماعت ہوتی ہے، بیوی کو خاوند کے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔