سارا قصور آئی ایم ایف کا ہے

سارا قصور آئی ایم ایف کا ہے

اس آئی ایم ایف نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آئے روز حکومت کو اس کی کڑی سے کڑی شرائط کو ماننا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی کے سائیکلون آ رہے ہیں اور عام آدمی کو دہلا رہے ہیں۔ 

یہ مالیاتی ادارہ پٹرول ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے اضافے پر مجبور کر رہا ہے اور ہماری ملکی معیشت پر خوفناک اثرات مرتب کر رہا ہے حکومت کے پاس شاید کوئی دوسرا راستہ نہیں کہ وہ اس کے بغیر معاشی استحکام لا سکے لہٰذا اب جو ہر چیز کی قیمت بلند سے بلند تر ہو رہی ہے اس سے لوگوں کی واقعتا کمر دوہری ہو گئی ہے یقین کیجیے بعض تو اپنے گھریلو سامان تک فروخت کرنے لگے ہیں مگر اہل زر کو اس کا کوئی احساس نہیں وہ مزے لوٹ رہے ہیں ان پر مہنگائی اثر انداز رتی بھر بھی نہیں ہو رہی۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے مشروبات سے دل بہلاتے ہوئے بتائے جاتے ہیں اور مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا جبکہ صورت حال لمحہ بہ لمحہ گمبھیر ہوتی جا رہی ہے غربت کسی آکاس بیل کی طرح پھیلتی چلی جا رہی ہے اور اس سے نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ہماری حکومتوں نے کبھی معیشت کے حوالے سے غور نہیں کیا ایسے منصوبے نہیں بنائے جو پچاس سو برس تک کار آمد ہوں۔ یہاں تو ہمیشہ آپا دھاپی پڑی رہی ہے اقتدار کے حصول کے لیے دوڑ دوڑ جاتے رہے ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے حکمت عملیاں اختیار کرتے چلے آرہے ہیں۔ واشنگٹن کی آشیر باد کے لیے مر مر جاتے رہے ہیں اس صورت حال میں انہیں عام آدمی کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی کہاں میسر آتا ویسے بھی عالمی ایجنڈا یہی رہا ہے کہ لوگوں کو چند سہولتیں دینی چاہئیں انہیں انصاف سستا اور آسان نہیں حاصل ہونا چاہیے تھانوں پٹوار خانوں کے ذریعے انہیں قابو میں کیا جائے سرکاری اداروں میں ان کے چکر پہ چکر لگوائے جائیں رشوت اور سفارش کے بغیر معمولی سے معمولی کام نہ کیا جائے لہٰذا اب تک ملک خوشحالی کی منزل کے قریب نہیں پہنچ پایا۔ بنیادی حقوق سے محروم ہونے کی وجہ سے لوگ احساس بیگانگی میں مبتلا ہو چکے ہیں انہیں ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ 

بہرحال ملکی تاریخ کے معاشی بگاڑ نے حکمرانوں کے پسینے چھڑا دیے ہیں انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے بڑھتی ہوئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا مقابلہ کریں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر ذمہ داران مل کر موجودہ صورت حال سے نمٹتے مگر ہر کوئی اپنی اپنی ڈفلی بجا رہا ہے اور ایک دوسرے پر تنقید کے تیر برسا رہا ہے۔ اس طرز عمل نے پچھتر برس کے بعد بھی حالت ٹھیک نہیں ہونے دیئے اور اب وطن عزیز کو ایسے ایسے خطرات کا سامنا ہے کہ جو اسے میرے منہ میں خاک کوئی بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں مگر ذرا دیکھیے حکمران طبقات اب بھی متحد نہیں ہو رہے بکھرے ہوئے ہیں طعنہ زنی کر رہے ہیں کہ تم نے یہ غلطی کی اور یہ بدعنوانی کی۔ اور یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اس طرز عمل و فکر نے عوام کو اعصابی مریض بنا دیا ہے مگر یہ لوگ اپنی اناؤں کے اسیر بن کر رہ گئے ہیں اور نہیں سوچتے کہ بائیس کروڑ عوام پس کر رہ گئے ہیں۔ 

گھی، آئل، آٹا ، دال اور چینی ان کی دسترس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں مگر ابھی تک ذمہ داران نے کوئی ایسا انقلابی قدم نہیں اٹھایا کہ جس سے سکون کی ایک ساعت میسر آتی ہو۔ دوائیں بھی اس قدر مہنگی ہو گئی ہیں کہ اب لوگ گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کر نے لگے ہیں مگر موجودہ حکومت نے یہ بہت اچھا کام کیا ہے کہ اب سرکاری ہسپتالوں سے دوائیں مفت ملیں گی پچھلی حکومت نے تو یہ سلسلہ روک دیا تھا۔ بعد میں اگرچہ اس نے صحت کارڈ کا اجرا کیا تھا جس سے بہت سے لوگ مستفید ہونا شروع ہو گئے تھے مگر وہ مفت دواؤں کے مقابل تب بھی موزوں نہیں تھا۔ عرض کرنے کا مقصد عوام انتہائی پریشان ہو گئے ہیں ان کے باورچی خانے خالی خالی نظر آتے ہیں اور مہنگائی کا طوفان شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔  ہر تیسرے چوتھے روز پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اہل اقتدار و اختیار کو چاہیے کہ وہ اس کا حل ڈھونڈیں اور عوام کو ایک بڑا ریلیف دیں وہ اس لیے نہیں رہ گئے کہ خزانہ بھرنے کے لیے اپنا خون بھی بیچ ڈالیں یہ جو کھرب پتی ہیں انہیں کوئی اس ملک سے پیار نہیں  عوام کا خیال نہیں اگر نہیں تو اقتدار و اختیار کی دوڑ سے باہر ہو جائیں عوام کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع دیں وہ یقینا اسے معاشی سیاسی اور سماجی بحران سے باہر نکال لیں گے۔ 

حد ہو گئی ہے حد پچھتر برس میں بھی وہ خواب پورا نہیں ہو سکا جس کے لیے بے بہا قربانیاں دی گئیں دکھ جھیلے صعوبتیں برداشت کیں مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ایک طبقہ جسے اشرافیہ کہا جاتا ہے دھیرے دھیرے دولت کے ڈھیر لگاتا چلا گیا پھر وہ ان ڈھیروں کو باہر کے ممالک میں منتقل کرنے لگا۔ آج ہم ایک ایک نوالے کو ترس گئے ہیں بروقت یہی خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر آئی ایم ایف نے کوئی قسط روک لی تو کیا بنے گا کہ یہ جو سانسیں بھلے وہ رک رک کر آرہی ہے کہیں مستقلاً رک ہی نہ جائیں۔ بات کڑوی ہے کہ 

ہمارے اگلے پچھلے منتخب وغیر منتخب حکمرانوں نے جو اپنی تجوریاں بھری ہیں اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ہمیں قرضہ لینے کی ضرورت ہی نہ رہتی پھر اگر اس نظام کو جو استحصالی ہے بدل دیتے اور خود مختاری کا علم بلند کر دیتے تو بھی یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ سکتی تھیں مگر اقتدار کے لالچ میں ملک کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے کہ یہاں کوئی اپنی مرضی و منشا کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا مگر اب ضروری ہو گیا ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے ہاں ایک بار ہمیں مسائل کی یلغار کا سامنا کرنا پڑے گا اس کے لیے حکمران طبقات عوام کو اعتماد میں لیں انہیں یقین دلائیں کہ وہ گھبرائیں نہیں جلد ان کے اچھے دن آنے والے ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ وہ ان کی بات نہیں سنیں گے، اور اس پر عمل نہیں کریں گے۔ ویسے بھی یہ مالیاتی ادارے اصل سے زیادہ سود وصول کر چکے ہیں لہٰذا انہیں آنکھیں دکھانا ہوں گی کیونکہ ان کا مقصد ہمیں ذہنی و جسمانی غلام بنا کر رکھنا ہے۔ جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی کیونکہ ہم نے اب آئندہ کے فیصلے خود کرنا ہیں تاکہ غربت افلاس اور بے بسی سے جان چھڑائی جا سکے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے ہمارے کرتا دھرتا کب مل بیٹھیں گے۔ انہیں اس کا جواب دینا چاہیے کہ زندگی لہولہان ہے، ہراساں ہے، پریشان ہے وہ صدا دے رہی ہے کہ اس کی آنکھوں میں جو سپنے سجے تھے وہ بکھر گئے ہیں مگر اب بھی وقت ہے کہ جدوجہد کی راہ پر چل پڑیں تو نئی صبح کو طلوع ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں