سکول میں شرارتوں کی وجہ سے سزا ملتی تھی، جسٹس ثاقب نثار

سکول میں شرارتوں کی وجہ سے سزا ملتی تھی، جسٹس ثاقب نثار

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے یوم پاکستان پر کیتھڈرل سکول لاہور میں خطاب کرتے ہوئے اپنے زمانہ طالب علمی کے یادگار اور خوشگوار واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں روز شرارت کرنے کی وجہ سے سزا ملتی تھی۔


تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاکہ”غالباً میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا، میری ایک خاتون ٹیچر کلاس لینے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوتیں تو پہلی آواز آتی کلاس سٹینڈ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی دوسری آواز آتی کلاس سٹ، ثاقب۔۔یو۔۔ آﺅٹ۔۔۔ ( Class Sit… Saqib You Out)۔ جیسے ہی یہ حکم ہوتا تو میں کلاس کے باہر کھڑا ہوجاتا تھا، شرارتوں کی وجہ سے ہر دو مہینے بعد پرنسپل صاحب کے پاس پیشی بھی ہوا کرتی تھی۔

چیف جسٹس نے پاکستانی بچوں کو مشورہ دیا کہ وہ بھی خوب شرارتیں کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی خوب حاصل کریں کیونکہ علم اور اچھی تربیت ہی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے۔چیف جسٹس نے اعتراف کیا کہ انہیں شرارتوں کی وجہ سے بہت سزائیں ملی ہیں لیکن غیراخلاقی حرکات کی وجہ سے ا?ج تک انہیں سزا نہیں ہوئی، اس لئے موجودہ دور کے بچے بھی اپنی اچھی تربیت پر توجہ دیں۔

اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک اور یادگار واقعہ بتاتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ اپنی کلاس میں ٹاپ کیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے دو مرتبہ کلاس میں سے لڑکی نے ٹاپ کیا تھا تو میں نے اپنے دوستوں کو کہا کہ ”یار ہر واری کڑی ٹاپ کر دی ایہہ، منڈا ٹاپ کیوں نئیں کر سکدا، میں ٹاپ کر کے وکھاواں گا“ اور میں نے ٹاپ کیا۔