مشرقی یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطینی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا خطے میں امن کے قیام کیلئے محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم کیساتھ کام کرنا چاہتے ہیں اور عرب رہنماؤں کو کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے کیونکہ تمام ممالک متحد ہو کر دہشتگردی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مانچسٹر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا دہشت گردی کے ہوتے ہوئے کبھی امن نہیں آ سکتا اور فلسطین کے لیے جو کر سکتا ہوں کروں گا جبکہ تمام عالمی رہنماؤں کو دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کوششوں کی دعوت دیتا ہوں۔

مشرق وسطی کے دورے پر موجود امریکی صدر ٹرمپ اپنے دورے کے آخری روز آج فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ صدر محمود عباس نے امریکی صدر کا استقبال کیا اور اس موقع پر بیت المقدس میں سیکیورٹی سخت اور سڑکیں سنسان رہیں۔

اس سے قبل اسرائیل کے دورے کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت کی بحالی ایک مشکل ترین کام ہے لیکن امید ہے کہ آخرکار ہم فریقین کے درمیان امن معاہدے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 

اسرائیل کے دورے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کی قدیم پتھروں سے بنی مغربی دیوار پر تاریخی دورہ کیا اور دعائیہ کلمات بھی ادا کیے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دیوار کے دورے کا مطلب ہے کہ ٹرمپ بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے کو جائز سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے فلسطینیوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

غزہ میں فلسطینیوں نے احتجاج کیا جس میں بچے بھی شریک ہوئے  اور  مظاہرین نے  احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی اور امریکی پرچم سمیت امریکی صدر کی تصویروں والے پتلے بھی نذرآتش کئے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں