وزارت داخلہ کے نائب قاصد محمد اقبال کی خود کشی،والد کو ذہنی مریض قرار دو،بیٹے پرافسروں کا دباو

اسلام آباد: وزارت داخلہ کے نائب قاصد محمد اقبال کی خود کشی کا معاملہ گھمبیر صورتحال اختیار کرگیا۔ سیکرٹریٹ ایمپلائز فیڈریشن کے چیف کوارڈینیٹر راجہ بلال کا کہنا ہے کہ محمد اقبال کے بیٹے پر دباو ڈالا جا رہا ہے کہ اپنے والد کو ذہنی مریض قرار دیں۔

 وزارت داخلہ کے دفتر سے چھلانگ لگا کر شدید زخمی ہونے والے ملازم نے دوران علاج پمز اسپتال میں دم توڑ دیا ۔زرائع کے مطابق وزارت داخلہ کے دفتر میں تعینات نائب قاصد اقبال نامعلوم وجوہات کی بنا پر آر بلاک کے چھٹے فلور کی چھت سے کود گیا۔ جسے شدید زخمی حالت میں پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔

اس سلسلے میں ذرائع وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں  کہ آیا یہ اتفاقی حادثہ تھا یا نائب قاصد نے خودکشی کی ہے۔دوسری جانب زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چند ماہ بعد ریٹائر ہونے والے محمد اقبال نے اپنی جگہ بیٹے کی ملازمت کی درخواست جمع کروا رکھی تھی جسے اعلیٰ افسران منظور کرنے سے انکاری تھے جس پر آج اس نے دلبرداشتہ ہو کر یہ انتہائی قدم اٹھاکر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

تاہم فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے پوسٹ مارٹم کے بعد محمد اقبال کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی ہے۔

مصنف کے بارے میں