پاکستان 183 ممالک میں سے چین سے سب سے زیادہ طلباء وظائف حاصل کرنے والا ملک بن گیا

اسلام آباد:   پاکستان  183 ممالک میں سے   چین سے سب سے زیادہ   طلباء   وظائف حاصل  کرنے  والا  ملک  بن  گیا .   چین میں پاکستانی طلباء کی کل تعداد 10ہزار سے زائد ہے جس میں سے 5801 طلباء چائنیز  سکالر شپ  پر زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں،کچھ پاکستانی طلباء اپنے اخراجات پر چین کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان میں تعینات چینی سفیر  کی اہلیہ مادام باؤ نے اسلام آباد  ماڈل کالج f-7/3 اسلام آباد  کی سالانہ تقریب سے خطاب کے دوران کہا  کہ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مابین عوامی سطح پر بھی ایک دوسرے کو جاننے پہچاننے کیلئے کام کیا جارہا ہے،چینی حکومت موافق تعلیمی پالیسی رکھتی ہے،چینی حکومت بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ سے منسلک ممالک کے غیرملکی طلباء کے وظائف میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔

مادام باؤ نے کہا کہ میں نے دس سال سے زائد چائنا فارن یونیورسٹی میں انگلش ٹیچر کے طور پر کام کیا ہے، چین میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ ایک درخت کو تنا آور درخت بننے میں دس سال لگتے ہیں،تعلیم یافتہ لوگ صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چینی صدر شی جن پھنگ کے ویژن کا عکاس ہے،وہ اس وقت صرف چین اور ایشیاء،مشرق وسطی،یورپ اور افریقہ کے ممالک کو باہم ملانے پر کام کر رہے ہیں،اس سلسلہ کی مناسبت سے گذشتہ ہفتہ بیجنگ میں ایک انتہائی اہم سمٹ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس میں پاکستانی وزیراعظم نوازشریف سمیت 29سربراہان ممالک اور 130ممالک کے نمائندے اور 70بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی۔

پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ فورم کے علاوہ چینی صدر شی جن پھنگ اور چینی وزیراعظم لی کی چھیانگ کی ملاقات بار آور رہی،چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی کامیابی ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کا پرچم بردار منصوبہ بن چکا ہے،دوروزہ اجلاس میں پاکستانی وزیراعظم نے تین مرتبہ اپنے خیالات کا اظہار کیا،جو کسی بھی ملک کے لیڈر سے زیادہ ہے۔

مادام ڈیانا باؤ نے کہا کہ کالج کی لائبریری کیلئے چینی ثقافت اور زبان پر مشتمل کچھ کتابیں اور ویڈیوز تحفہ کے طور پر پیش کیے جارہے ہیں۔انہوں نے طلباء کو چین کے سفارتخانے کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ہم آپ کو چینی کرداروں کے پروگرامز،پیپرکٹنگ اور گانگ فو چائے بنانا سکھائیں گے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی طلباء کو چینی زبان سیکھنی چاہیے تاکہ چینی ثقافت کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

مصنف کے بارے میں