مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنانے پر نشانہ بنایا گیا، نواز شریف

مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنانے پر نشانہ بنایا گیا، نواز شریف
سابق وزیرا عظم نواز شریف نے آخری 4 سوالات کے جوابات دے دیئے۔۔۔۔فوٹو/اسکرین گریب

اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس اختتامی مراحل میں داخل ہو گیا۔ سابق وزیرا عظم نواز شریف نے آخری 4 سوالات کے جوابات دے دیئے۔


 احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔ نواز شریف نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا میرے خلاف مقدمہ کیوں بنایا گیا قوم جانتی ہے اور مقدمات کا کھیل کھیلنے والے بھی جانتے ہیں۔ مجھے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے والے کچھ لوگوں کو تسکین مل گئی ہو گی۔

مزید پڑھیں: 'تھپڑ مار کلچر تحریک انصاف کا کلچر ہے جس کے ذمہ دار عمران خان ہیں'

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے سیسلین مافیا، گارڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں پاکستان کا بیٹا ہوں اس مٹی کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے، کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا توہین سمجھتا ہوں۔

نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کی باگ دوڑ منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ 20 سال قبل بھی وہی قصور تھا جو آج ہے اس وقت بھی نہ پاناما کا وجود تھا نہ آج ہے۔ جمہوریت کا تختہ الٹنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیئے اور قوم نے بھرپور ساتھ دیا جبکہ غداری مقدمہ میں وکلا سے مشاورت کی اور وکلا نے مشورہ دیا مشرف کیخلاف نہ جائیں یہ مقدمہ ترک کر دیں۔ مشورہ نما دھمکیوں کا بھی سامنا کیا اور آصف زرداری نے کہا کہ مشرف کے دوسرے مارشل لاء کی توثیق کر دیں اسی میں مصلحت ہے۔

سابق وزیراعظم نے احتساب عدالت میں اپنے بیان میں کہا 12 اکتوبر کو مشرف نامی جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا سب نے آگے بڑھ کر مشرف کا استقبال کیا اور 8 سال بعد دوبارہ آئین توڑا اور ایمرجنسی کے نام پر مارشل لا لگایا۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند کیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی لیکن ن لیگ نے واضح موقف اپنایا اور 2013 میں یہ عوام کے سامنے رکھا۔ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکساس اسکول فائرنگ، سبیکہ شیخ کو کراچی میں سپرد خاک کر دیا گیا

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی جس میں انہوں نے باقی 5 سوالوں کا جواب دیگر دو ریفرنسز میں گواہان مکمل ہونے کے بعد ریکارڈ کرنے کی استدعا کی۔

نواز شریف کی درخواست پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کیا جس پر عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں