سپریم کورٹ کا پولیس کو ایک کیس کی دو ’ایف آئی آر‘ درج نہ کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا پولیس کو ایک کیس کی دو ’ایف آئی آر‘ درج نہ کرنے کا حکم
image by face book

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں پولیس کو ہدایت جاری کرتے ہوئے ایک واقعہ کی 2 یا اس سے زائد فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کا اندراج کرنے سے روک دیا۔


جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پہلی ایف آئی آر کے اندراج کے بعد دوسری ایف آئی آر رجسٹر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ پولیس کسی واقعے پر نیا موقف آنے پر نئی ایف آئی آر درج نہ کرے اور تحقیقات کے دوران تفتیشی افسر نیا پہلو سامنے آنے پر متعلقہ شخص کا بیان ریکارڈ کرے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ نامزد ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد یا مواد آنے تک اسے گرفتار نہ کیا جائے۔فیصلے میں گیا کہ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کرے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچ کو سامنے لائے۔عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کے اندراج کا مقصد سچ کو سامنے لا کر اصل ملزمان کو پکڑنا ہوتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے پر چالان ٹرائل کورٹ میں داخل کیا جائے۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ فیصلے کی نقول تمام پولیس سربراہان کو بھجوائی جائیں اور تمام انسپیکٹر جنرل (آئی جی) ملک بھر کے تھانوں کے افسران کو فیصلے سے آگاہ کریں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ نامزد ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد یا مواد آنے تک اسے گرفتار نہ کیا جائے۔فیصلے میں گیا کہ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کرے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچ کو سامنے لائے۔عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کے اندراج کا مقصد سچ کو سامنے لا کر اصل ملزمان کو پکڑنا ہوتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے پر چالان ٹرائل کورٹ میں داخل کیا جائے۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ فیصلے کی نقول تمام پولیس سربراہان کو بھجوائی جائیں اور تمام انسپیکٹر جنرل (آئی جی) ملک بھر کے تھانوں کے افسران کو فیصلے سے آگاہ کریں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئی جیز عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔خیال رہے کہ انسانی حقوق کی درخواست کو لاہور میں چیف جسٹس کی گاڑی کے سامنے آکر انہیں فریاد سنائی تھی۔

ان کے بیان کے مطابق اعظم بٹ کو اپنا گھر حوالے نہ کرنے پر ان کا اکلوتے بیٹے کو ایک جعلی پولیس انکاؤنٹر میں قتل کردیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں اعظم بٹ نے ان پر اغوا برائے تاوان کا جھوٹا مقدمہ بنادیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے 10 ماہ جیل میں گزارا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ان کی بڑی بیٹی کو بھی ان کے قید کے دوران ملزمان کی جانب سے اغوا کیا گیا تھا اور اس کا اب تک پتہ نہیں لگ سکا ہے۔

چیف جسٹس نے احکامات جاری کیے تھے کہ معاملے کو از خود نوٹس کی طرح لیا جائے گا اور واقعے میں ملوث پولیس افسران سمیت تمام ملزمان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔

صغراں بی بی کی جانب سے ایک علیحدہ ایف آئی آر ان کے بیٹے کے قتل پر بھی درج ہے تاہم عدالت نے ان کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کیس کی دو ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتیں۔