شیطان کے بھائی

شیطان کے بھائی

ہر گزرتے وقت کے ساتھ جیسے جیسے معاشرہ میں جدت آتی جا رہی ہے وہیں ہمارے لیے مصیبتوں کے نئے در ’وا‘ ہو رہے ہیں۔ نفسا نفسی کے اس دور میں ہم خود ہی اپنے سب سے بڑے دشمن بن چکے ہیں۔ ہماری سوچ، ہماری عادات، رہن سہن اور دن بہ دن بڑھتی خواہشات کے ساتھ عیش و آرام کی چاہ نے ہمیں مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ دور ِ حاضر میں دنیا کے تقریباً سب ہی ممالک کے باشندے برانڈ کے خبط میں مبتلا ہیں، ہمارے کپڑے، جوتے، موبائل فونز یہاں تک کے کھانوں میں استعمال ہونے والے مرچ، مسالے بھی برانڈڈ ہوتے ہیں اور مغرب کے باشندے ہمیں برانڈ کی دلدل میں دھکیل کر خود اس کا مزہ چکھنے کے بعد واپس قدرت کے قریب ہو کر اپنی زندگی آسان بنا چکے ہیں۔ پاکستان میں بڑی ترتیب اور پلان کے ساتھ پہلے میڈیا کے ذریعے مغربیت کو فعال کیا گیا اور پھر امپورٹڈ آ ئٹمز کو دیرپا، بہترین اور سٹیٹس سمبل کے طور پر سامنے لانے کے لیے ہر طریقہ کار استعمال کیا گیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے نامور اور مہنگے برانڈزکی مصنوعات کے حصول کی ریس نے ہمارے معاشرے کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، ایک حصہ وہ جو کوئی بھی مہنگا برانڈ خرید سکتے ہیں اور دوسرا حصہ وہ جو کسی بھی برانڈڈ شے کو خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ہمارے معاشرے میں امارت اور غربت کا درمیانی فاصلہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ برانڈڈ چیزوں کے استعمال کا بڑھتا رجحان ہمارے معاشرے کا ایسا ناسور بن چکا ہے جس نے ہمیں چاروں شانے چت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ شومئی قسمت کے ہم مقابلے، نمود و نمائش اور شو بازی کے اس گھناؤنے کھیل میں مکمل رچ بس چکے ہیں اور اپنی ملکی مصنوعات کو حقیر اور ناقابل ِ استعمال تصور کرتے ہیں، جس کے باعث مقابلے اور دکھاوے کی اس دوڑ میں بلند معیار ِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکی اشیا کی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں غیر ممالک ہم سے اچھا خاصا زر مبادلہ حاصل کر رہے ہیں۔ برانڈڈ گاڑیاں، جیولری، گارمنٹس اور دیگر اشیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کا تعلیمی نظام بھی برانڈ کی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ فر مان ِ باری تعالیٰ ہے کہ فضول خرچی نا کرو، فضول خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نا شکرا ہے۔ نمود و نمائش کا یہ رجحان نا صرف بہت سارے لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بنتا جا رہا ہے وہیں احساس کمتری اور برتری جیسے مسائل کے جنم لینے کا باعث بن رہا ہے۔ جہاں ہماری ملکی معیشت ستر فیصد زراعت پر انحصار کرتی ہے وہیں ہم گندم اور چینی بھی درآمد کرتے آ رہے ہیں۔ پاکستان کی انڈسٹریز پہلے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بے جا ٹیکسز کے نفاذ کے باعث گزشتہ کئی سال سے بدحالی کا شکار تھیں، اب رہی سہی کسر سمگل شدہ امپورٹڈ برانڈز نے پوری کر دی۔ برانڈز کا دن بہ دن بڑھتا رجحان اسراف، تکبر اور نمود و نمائش جیسی اخلاقی خرابیوں کا باعث ہے۔

نمود و نمائش اور دکھلاوے کی اندھا دھند دوڑ میں دوڑتے ہوئے ہم نے کبھی اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ دنیا کے امیر ترین اشخاص کی فہرست میں شامل ہونے والے بل گیٹس جنہوں نے دنیا کا نظام ہی تبدیل کر کے ڈیجیٹلائز کر دیا کس وجہ کے باعث ایک عام سی جینز اور شرٹ پہنے نظر آتے ہیں۔ کیا وہ برانڈڈ کپڑے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے؟؟؟ ایسا اس لیے ہے کہ انہیں معلوم ہے اپنا پیسہ کب، کہاں اور کیوں خرچ کرنا ہے۔۔۔ اسلام سادگی کا دین ہے، آسان اور سکھ کے ساتھ سادگی کی زندگی کا سر چشمہ ہے۔ وہ سادگی جس کا درس اور تلقین ہمیں بارہا کی جاتی رہی آج غیر مسلم اسے اپنا کر پُر سکون اور کامیاب زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ نمود و نمائش اور دکھاوا ہماری زندگیوں کا محور بن چکا ہے۔ اشفاق احمد فرماتے ہیں کہ سادگی انسان کو اس کے وجود اور اللہ سے قریب کر دیتی ہے اور آدمی کئی مشقتوں سے بچ جاتا ہے۔۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے معاشرے کی بدقسمتی رہی ہے کہ ہم بہت جلد دنیا کی رنگینیوں میں غوطہ زن ہو کر دوسروں کی ظاہری شان و شوکت، مال و دولت اور ظاہری نمود و نمائش سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم سے پہلے بھی بہت سے نامور بادشاہ اور حکمران اس دنیا میں آئے جنہیں اپنی دولت، شان و شوکت اور مرتبے پر بے حساب غرور تھا لیکن آج ان کا انجام یہ ہے کہ ان کی ہڈیاں تک مٹی میں باقی نہیں ہیں۔ ہمارے معاشرے میں آج جہاں ذہنی امراض اور ڈپریشن میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں دوسری جانب کرپشن، رشوت اور دوسرے ناجائز طریقوں سے مال و اسباب میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔۔ اس ساری نمود و نمائش سے معاشرے کے غریب اور تنگدست طبقے کی دل شکنی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مایوسی، حسد، بغض اور لالچ جیسے جذبات جنم لیتے ہیں۔ معاشرے میں پائے جانے والے ان منفی رجحانوں میں دن بہ دن اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ ہر کس و نا کس اندھا دھند اس کی تقلید میں مصروف ہے، بس جو گنے چُنے گھرانے ان لغویات سے دور ہیں وہی سادگی، آسودگی اور سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا اخلاق اور کردار کسی بھی ذی شعور کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔

مصنف کے بارے میں