ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار کا لب و لہجہ

ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار کا لب و لہجہ

سیاست میں سب سے پہلے اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے کوئی بھی ایسا بیان جو اخلاقیات کے پل کو کراس کر کے صرف اپنی جھوٹ کی سیاست کو چمکانے کی خاطر بولا جائے کہ انہوں نے بہت بڑا تیر مار لیا ہے آپ کو سوچنا سمجھنا چاہیے کہ آپ ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتے ہیں جس میں عورتوں کا تحفظ سب سے پہلے رکھا جاتا ہے ہمارے اسلام میں عورتوں کو بہت عزت و احترام دینے کا حکم دیا گیا ہے مائیں بہنیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں بے شک ان کا تعلق سیاست سے ہو یا صحافت سے یا کسی بھی شعبے سے یا گھریلو خاتون ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے آج تک سیاست کو جتنا بھی دیکھا ہے تو مجھے یہی لگتا ہے کہ سیاستدان جو ہوتا ہے وہ اپنے عوام کے سامنے ایک مثال بنتا ہے اپنے عوام کو اخلاقیات  کا سبق دیتا ہے مگر یہاں تو پارٹی کے لیڈر ہی کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہیں اپنے جلسے جلوسوں میں خواتین کے بارے میں غیر اخلاقی بیانات دے کر عوام سے تالیاں بجواتے ہیں۔

چند روز پہلے عمران خان صاحب کا بیان سنا بڑا افسوس ہوا جس میں انہوں نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز اتنے جوش و جذبے سے میرا نام مت لیا کرو تھوڑا دھیان کرو تمہارا شوہر ناراض نہ ہو جائے۔ میں پوچھتی ہوں عمران خان صاحب سے کیا آپ کا ضمیر گوارا کرتا ہے ایک پارٹی کے لیڈر ہیں آپ ہر میٹنگ اور  اسمبلی کے اجلاس میں ہاتھ میں تسبیح لیے بیٹھے ہوتے ہیں، آپ اپنے عوام کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ اس بیان کے بعد کبھی سوچا ہے آپ اپنے کارکنوں کو کس راستے پر لگا رہے ہیں آپ یہ بھول گئے ہیں کہ آپ کے جلسوں جلوسوں میں کئی گھروں سے خواتین آتی ہیں جو اونچی اونچی خان ہمارا خان ہمارا جیتے گا کا نعرہ لگاتی ہیں۔ آپ یہ پیغام مریم نواز کے ساتھ ان خواتین کو بھی دے رہے ہیں جو آپ کی سپورٹر ہیں اس طرح تو ایک دو اور بھی خواتین ایسی ہیں جن کے حق میں آپ نے پریس کانفرنس کی تھی ان کو کیسز سے بچانے کے لیے، میں اخلاقیات سے نیچے نہیں گروں گی میں ان کا نام یہاں پر نشر نہیں کروں گی تو کیا جب آپ نے ان کے حق میں پریس کانفرنس کی تھی تو آپ کی اہلیہ بھی آپ سے ناراض ہوئی تھی؟

خان صاحب مریم نواز سے آپ کی سیاسی جنگ ایک طرف مگر میں سمجھتی ہوں کے آپ سیاست میں فیل ہو چکے ہیں اس بیان کو سننے کے بعد معلوم ہوا کہ آپ تو اخلاقیات میں بھی گر چکے ہیں۔ کیا ایک سیاستدان کو یہ چیز زیب دیتی ہے کہ وہ ایسے بیانات دے اگر آپ خان صاحب سیاست میں فیل ہیں تو میں پہلے کہتی رہی ہوں کہ 

آپ کے غیر منتخب مشیر، آپ کی گالم گلوچ کی سیاست اصل وجہ بنی۔ مگر اب یہ ہے کہ اس بیان کے بعد معلوم ہوا کہ آپ کی پارٹی کے کارکن یا غیر منتخب مشیروں کے ساتھ ساتھ آپ بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ آپ کی زوجہ اتنی باپردہ عورت ہے کیا انہوں نے کبھی آپ کو نہیں بتایا کہ ایک خاتون کے بارے میں آپ نے اخلاق سے گری بات کبھی نہیں کرنی۔ عمران خان کے اس بیان سے پورے سوشل میڈیا پر ایک آگ سی لگا دی ہے جتنی اخلاقیات سے گری ہوئی حرکت پی ٹی آئی پارٹی نے کر دی ہے میں سمجھتی ہوں کہ آج تک کسی پارٹی نے نہیں کی ہو گی۔ مسجد نبویؐ میں ہونے والا واقعہ انتہائی افسوسناک تھا پھر اب یہ بیان دینا۔ اس بیان کے بعد شہباز شریف کا ردعمل بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ بچی مریم نواز شریف کے خلاف قابل افسوس زبان درازی پر پوری قوم خاص طور پر خواتین پر زور مذمت کرتی ہیں کم ظرفی کے اظہار سے ملک و قوم کے خلاف آپ کے جرائم چھپ نہیں سکتے یہ بات سچ ہے کہ عمران خان کے اس بیان پر تو ہر عورت افسردہ ہے۔ ایک خاتون ہونے کی حیثیت سے میری بھی دل آزاری ہوئی ہے کیونکہ اس طرح تو میں بھی اپنے پروگرام میں کئی بار آپ کا نام لیتی ہوں۔ کیا آپ مجھے بھی یہی کہیں گے۔ اگر میں آپ کی نالائقی کو ثابت کروں گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان نے جو مریم نواز کو مخاطب کر کے گھٹیا بازاری بیان بازی کی ہے اگر اب بھی پی ٹی آئی خواتین اس پر احتجاج نہ کریں تو پھر ان کو کوئی حق نہیں کہ خواتین کے حق پر بات کرنے کی اور یہ خواتین اپنے منافق ہونے کا صاف ثبوت دیں گی کیونکہ عمران خان کا یہ بیان شخصیت پرستی، ذہنی غلامی، جہالت کم ظرفی، کے اس مقام پر پہنچ گئی ہیں جہاں سے لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ عمران خان اللہ معاف کرے کوئی خدا نہیں ہے جس کا ہر فرمان، غیر فطری احکامات سے بغاوت پر آپ لادین کہلائے جائیں گے۔ ان کے ہر بیان پر تالیاں بجانا ضروری نہیں ہے۔ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے خیر خواہ ہیں ہم پاکستان کے حامی ہیں تو مریم نواز پاکستان کے سیاستدان کی بیٹی ضرور ہے مگر پاکستان کی بیٹی بھی ہیں سب سے بڑی بات ایک عورت ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان کی مثال ان مردوں جیسی ہے اس بیان کے بعد جن کو منہ نہ لگاؤ تو کردارکشی پر اتر آتے ہیں۔ میں بطور صحافی بطور خاتون عمران خان کے مریم نواز کے خلاف کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ ہمارے ملک میں ایسے سیاست دان ایک دوسرے کو آئینہ دکھانے پر کبھی نازیبا الفاظ استعمال نہ کریں، گھٹیا بیان بازی سے گریز کریں۔ یہی بیان اگر کسی پی ٹی آئی کی خاتون کے بارے میں نون لیگ یا پیپلز پارٹی نے دیا ہوتا تو میرا خیال اس وقت بھی یہی ہونا تھا خدارا اپنی دو ٹکے کی سیاست کو چمکانے کے لیے ہم خواتین کے تحفظ کو پامال نہ کیا جائے۔۔

مصنف کے بارے میں