اردن کی سرحد پر موجود 85 ہزار شامیوں کے لیے امداد بحال

نیو یا رک :اقوامِ متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ اردن کی سرحد پر پھنسے 85000 شامی مہاجرین کے لیے امداد بحال کر دی گئی ہے۔اقوامِ متحدہ کی طر ف سے جا ری کر د ہ بیا ن میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کو دی جانے والی امداد میں خوراک، گرم کپڑے، کمبل اور صفائی کے لیے ایک کٹ موجود ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ان مہاجرین میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔یہ لوگ بہت ہی ابتر صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں اور انھوں نے صحرائی علاقے میں رہنے کے لیے کیمپ بنانے رکھے ہیں۔خیال رہے کہ اردن نے شام کی جانب اپنی سرحد کو جون میں اس وقت بند کر دیا تھا جب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ایک بم حملے میں اس کے سات فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تب سے لے کر اب تک صرف ایک مرتبہ اگست میں رکبان اور ہادلت نامی کیمپ میں خوراک پہنچائی گئی تھی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امداد کی بحالی سال کے سرد ترین عرصے میں ہوئی ہے جب درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہو جاتا
ہے۔اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس وقت چھ لاکھ شامی پناہ گزین اردن میں موجود ہیں تاہم عمان کی حکومت نے کہا ہے کہ یہ تعدا 15 لاکھ تک پہنچنے سکتی ہے۔