انقرہ: ترکی اور عراق کی سرحد سے متصل پہاڑی علاقوں میں کرد جنگجووں کے ساتھ تصادم میں کم سے کم 50 ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ جنرل رمضان شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قندیل اور جاسوسان نامی پہاڑی علاقوں میں کرد جنگجووں کے حملوں میں ایرانی ایلیٹ فورس کے 50 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

جنرل رمضان شریف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق اور ترکی کی سرحد سے متصل علاقوں کرد عسکری پسندوں کے ساتھ خون ریزی جھڑپیں حالیہ ایام میں ہوئی ہیں جن میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ کردوں اور ایرانی فوج کے درمیان تازہ خون ریزی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دوسری جانب پاسداران انقلاب اور صدر حسن روحانی کے درمیان اختلافات کی افواہیں بھی پھیلی ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ جبال قندیل اور جاسوسان ایران، ترکی اور عراق تینوں ملکوں کی سرحد پر واقع ہیں۔ ان علاقوں میں کرد عسکریت پسند گروپ سرگرم ہیں جو ترکی اور ایران دونوں میں عسکری کارروائیاں کرتے ہیں۔
کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق کردوں نے 23 سال تک اپنے جائز حقوق اور مطالبات کے لیے پرامن جدو جہد کی ہے۔ مگر پرامن جد وجہد کے نیتجے میں ایرانی حکومت نے ان کاکوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔ اب انہوں نے مجبورا ایران کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں۔

مصنف کے بارے میں