مچھلی، خنک موسم کی خاص غذا قرار دے دی گئی

رد ہواؤں، دھند اور بارش میں چٹ پٹی اور گرما گرم چیزیں کھانے کو بہت جی چاہتا ہے اور اگر اس غذا میں صحت کا خزانہ بھی پنہاں ہو تو کیا ہی کہنے۔ سرد موسم کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لیے مچھلی سرفہرست ہے

مچھلی، خنک موسم کی خاص غذا قرار دے دی گئی

سرد ہواؤں، دھند اور بارش میں چٹ پٹی اور گرما گرم چیزیں کھانے کو بہت جی چاہتا ہے اور اگر اس غذا میں صحت کا خزانہ بھی پنہاں ہو تو کیا ہی کہنے۔ سرد موسم کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لیے مچھلی سرفہرست ہے، چاہے وہ کسی بھی صورت میں پکی ہوئی کیوں نہ ہو۔ یہ آپ کے دسترخوان کی رونق بڑھانے کہ ساتھ ساتھ آپ کی صحت کی بھی ضامن ہے۔


ہمارے ملک میں عموماً روہو، مہاشیر، پانول، کھگا، موری ملی اور جھینگا مچھلی شوق سے کھائی جاتی ہے۔ دریائے سندھ میں اس کی ایک قسم ’پلا‘ ملتی ہے۔ اس میں کانٹے اگرچہ زیادہ ہوتے ہیں، لیکن لذت کے اعتبار سے یہ بے حد ذائقے دار اور افادیت کے لحاظ سے بے پناہ طاقت وَر ہوتی ہے۔

مچھلی کی افادیت اس اعتبار سے بھی مسلّمہ ہے کہ اس میں بعض ایسے اجزا شامل ہوتے ہیں، جو چھوٹے یا بڑے گوشت میں نہیں پائے جاتے۔ اکثر لوگ لا علمی میں باسی مچھلی خرید لیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں چلتا کہ خریدی جانے والی مچھلی تازی ہے یا نہیں۔ تازہ مچھلی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے گلپھڑے سرخ گلابی ہوتے ہیں، جب کہ باسی مچھلی کے گلپھڑے مٹیالے گہرے سیاہی مائل ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ اوپر سے مچھلی کی جلد کو دبا کر دیکھا جائے، تو تازہ مچھلی اسی حالت میں واپس آجائے گی لیکن باسی مچھلی جہاں سے دبائی گئی ہو گی، وہاں سے اس کی جلد ویسے ہی دبی رہ جائے گی۔

مچھلی میں 78 فی صد پانی، لحمیات 22 فی صد اور تھوڑی مقدار میں نمک، چونا، فاسفورس اور فولادی اجزا کے ساتھ حیاتین الف بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس میں نشاستہ نہیں ہوتا۔ ایک چھٹانک مچھلی میں 52 حرارے ہوتے ہیں اور اس کی خصوصیات ہے کہ یہ تین چار گھنٹے میں ہضم ہو جاتی ہے۔

انسانی صحت کے لیے آئیوڈین بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی کمی سے جسم کا غدودی نظام کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ بہت سے ممالک جہاں سمندری غذا کا استعمال کم ہو تا ہے، وہاں کے لوگ اکثر اسی بیماری کا شکار رہتے ہیں۔