آمد سرد رُتوں کی؛ موسمی مسائل سےبچنے کے کچھ گُرُ ،مختلف بیماریوں سے بچنے کیلئے اختیاتی تدابیر

یوں تو قدرت کے تمام موسم اپنے اندر ان گنت خوب صورتیاں سمیٹے ہوئے ہیں، لیکن سرما وہ موسم ہے، جس کا اپنا ہی سَحر ہے اور جب آسمان سے برف گرتی ہے، تو یوں لگتا ہے کہ ہر چیز نے سفید لباس پہن لیا ہو۔

آمد سرد رُتوں کی؛ موسمی مسائل سےبچنے کے کچھ گُرُ ،مختلف بیماریوں سے بچنے کیلئے اختیاتی تدابیر

یوں تو قدرت کے تمام موسم اپنے اندر ان گنت خوب صورتیاں سمیٹے ہوئے ہیں، لیکن سرما وہ موسم ہے، جس کا اپنا ہی سَحر ہے اور جب آسمان سے برف گرتی ہے، تو یوں لگتا ہے کہ ہر چیز نے سفید لباس پہن لیا ہو۔


جن علاقوں میں برف نہیں بھی گرتی تو دن سمٹ جاتے ہیں اور راتیں طویل ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف سے کافی، سوپ اور مکئی کی خوش بو سے ایک خوش گوار احساس ہوتا ہے، لیکن اس موسم سے خواتین اور بچے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیوں کہ بچوں کو صبح سویرے اسکول جانا ہوتا ہے اور اس وقت سردی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اس وقت خواتین کو گھر کے کاموں کا آغاز کرنا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی جلد بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اسی مناسبت سے  آج ہم کچھ ایسے نسخے بتا رہے ہیں، جس پر عمل کر کے نہ صرف خواتین، بلکہ بچے بھی اس حسین موسمِ سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

شیر خوار بچوں کے لیے: سردی سے سب سے زیادہ شیر خوار بچے متاثر ہوتے ہیں، انہیں فوراً ٹھنڈ لگ جاتی ہے اور وہ گلے اور سینے کے مسائل سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ماؤں کو چاہیے کہ بچوں کو جب بھی سردی کے موسم میں نہلائیں، گرم پانی میں تھوڑا سا نمک ملالیں اور اس پانی سے بچوں کو نہلائیں اس طرح بچوں کو سردی نہیں لگے گی اور نہلا کر بچوں کو اجوائن کی دھونی دے دیں۔ اس کے لیے تین چار کوئلے انگارہ کرلیں، پھر ان کوئلوں کو مٹی کے برتن میں رکھ دیں۔ اس کے بعد اس کے اوپر ایک کھانے کا چمچا اجوائن ڈالیں اور بچے کو اس برتن کے قریب لے جائیں۔ دو تین منٹ دھونی دیں مگر احتیاط سے۔

سادے پان کا پتّا:سردی میں اکثر بچوں کو نزلہ زکام ہو جاتا ہے اور سینے میں سے خرخر کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ اس کا علاج بہت ہی آسان ہے۔ ایک سادہ پان کا پتّا لیں۔ اس کو چولھے پر ہلکا سا گرم کرلیں، پھر اس کی ایک طرف بام لگالیں اور بام والی سائیڈ بچوں کے سینے پر رکھ دیں اور بچوں کے سینے کو گرم چادر سے ڈھانپ دیں۔ یہ عمل سوتے وقت مسلسل تین، چار دن کرنا ہے۔ اس سے فوراً سردی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

شہد کا استعمال: جو بچے اسکول جاتے ہیں، انہیں صبح نیم گرم پانی یا دودھ میں شہد کا ایک چھوٹا چمچا ڈال کر پلا دیں۔ اس سے بچوں کا سینہ بھی صاف رہے گا اور بچوں کو توانائی بھی ملے گی۔

موئسچرائزر:مارکیٹ میں یوں تو مختلف قسم کی موئسچرائزر کریم اور لوشن ملتی ہیں، ایک تو وہ بہت منہگی ہوتی ہیں اور دوسرا ان کے استعمال کے بعد زیادہ تر نتائج وقتی ہوتے ہیں۔ سرد اور خشک ہوائیں، جلد سے نمی ختم کر دیتی ہیں، پھر سردیوں میں پانی کا استعمال بھی کم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے بھی جلد متاثر ہوتی ہے۔ اس کا بہترین اور سستا علاج یہ ہے کہ ہم وزن گلیسرین اور عرق گلاب لیں اور اس کو ملا لیں اور ایک شیشے کی بوتل میں ڈال کر فریج میں رکھ دیں یہ ایک بہترین موئسچرائزر ہے جو آپ کی جلد کو خشک ہونے سے محفوظ رکھے گا۔ اسے جتنی بار چاہے اپنی جلد پر لگائیں اور اپنی جلد کو نرم و ملائم بنائیں۔

دودھ بطور نسخہ:دودھ میں موجود اجزا جلد کو ٹھنڈک اور راحت پہنچاتے ہیں۔ آپ ایک چھوٹا تولیا لیں اور اس کو دودھ میں ڈبوئیں اور جہاں جہاں آپ کی جلد خشک اور کھردری ہو رہی ہو، وہاں اس تولیے سے ہلکی سی مالش کریں اور پھر پندرہ، بیس منٹ کے لیے چھوڑ دیں، پھر نیم گرم پانی والے تولیے سے صاف کرلیں۔ اس طرح آپ کی جلد نرم و ملائم ہو جائے گی۔

پھٹے ہوئے ہونٹ:سردیوں میں ہونٹ بھی بہت زیادہ پھٹتے ہیں۔ یہاں تک کہ اکثر ان میں تکلیف ہوتی ہے اور زخم سا بن جاتا ہے۔ اس کے لیے رات کو سوتے وقت ٹھنڈے دودھ کی بالائی لیں اور اس میں چند قطرے عرق گلاب کے ملالیں اور پھر اس کو ہونٹوں پر لگائیں اور صبح نیم گرم پانی سے دھولیں، یہ عمل مسلسل دو تین، ہفتے تک کرتے رہے۔ اس نسخے سے آپ کے ہونٹ کومل اور گلابی ہو جائیںگے۔