لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی بہت افسوسناک ہے ،سرتاج عزیز

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور سول آبادی کو نشانہ بنانے کے شواہد بہت جلد سلامتی کونسل کو دیے جائیں گے

لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی بہت افسوسناک ہے ،سرتاج عزیز

اسلام آباد :  مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور سول آبادی کو نشانہ بنانے کے شواہد بہت جلد سلامتی کونسل کو دیے جائیں گے ہم کشمیر کے معاملے سے غافل نہیں سفارتی سطح پر بہت متحرک ہیں ۔ہم نے تین ماہ میں جتناکام کیا ہے وہ گذشتہ 8برسوں میں بھی نہیں ہوا.


ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ٹیلیفونک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی بہت افسوسناک ہے آج  نہ صرف تین فوجی بلکہ 11کشمیری شہریوں کی شہادت کی بھی اطلاع ملی ہیں۔ وہاں سول آبادی نیلم روڈ کے بالکل آس پاس واقع ہے بھارتی فوج کی جانب سے مسافر بس کو نشانہ بنانا انتہائی ظالمانہ فعل ہے۔ ہم اس کے خلاف احتجاج بھی کر رہے ہیں اور ایک دو روز میں سیکورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کو شواہد دینے کا پروگرام بھی بنا رہے ہیں۔ جس میں مکمل تفصیل ہو گی کہ گزشتہ چند ہفتوں میں کتنی بار خلاف ورزی ہوئی کتنے لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت یہ سب کچھ کر رہا ہے تا کہ دنیا کی مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹ جائے اور وہ یہاں کے حالات کی طرف مائل ہو جائے۔

مشیر خارجہ نے کہا کہ ہم سفارتی سطح پر بہت متحرک ہیں صرف ہم ہی نہیں بلکہ مختلف ممالک میں مقیم کشمیری مختلف سوسائیٹیوں برادری اپنے اپنے ممالک میں وہاں کے اداروں اور پارلیمینٹ کے ممبران سے رابطہ کر رہی ہے اور انہیں بتا رہے ہیں کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اب تصویریں بھی تقسیم کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے بنیادی بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پہلی بار اتنے شدومد اور زور سے تحریک چلائی جا رہی ہے ۔کشمیریوں کی نئی نسل بات تو ہندوستان سے آزادی کی کر ر ہی ہیں اور جھنڈے پاکستان کے اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہاں ایک بہت ہی نتیجہ خیز تحریک چل پڑی ہے اور یقین ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکلے گا۔ ایک سوال کے جواب میں مشیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہمارا گہرا تعلق ہے اس سے ہمیں لاتعلق نہیں ہونا چاہی۔ے ہمارے مشن نے 8جولائی سے مسئلہ کشمیر پر جتنا کام کیا ہے پچھلے آٹھ سال میں بھی اتنا نہیں ہوا ۔بیرون ممالک میں متعین ہمارے تمام سفیروں نے کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھائی ہے ہم مسئلہ کشمیر سے غافل نہیں اس مسئلے پر ہمارے طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہو رہی۔