کھانے کو زیادہ پکانے سے امراض قلب کا خطرہ لا حق ہوسکتا

کھانے کو زیادہ پکانے سے امراض قلب کا خطرہ

کھانے کو زیادہ پکانے سے امراض قلب کا خطرہ لا حق ہوسکتا

نئی تحقیق سے پتہ چلا کہ کھانے کو بھون کر یا تل کر پکانے کی بجائے ابال کر یا دھیمی آنچ پر پکانا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس طرح سے دل کی جان لیوا بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔یونی ورسٹی آف ایڈن برگ کے سائنس دانوں نے اس مسئلے پر تحقیق کی کہ آخر کیوں مخصوص نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں دیگر افراد کی بہ نسبت امراض قلب میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔


اس تحقیق سے پتہ چلا کہ زیادہ درجہ حرارت پر پکے کھانے کھانے والے لوگوں کے بیمار ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

سائنس دانوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی کھانوں کو زیادہ درجہ حرارت پر پکایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانس فیٹی تیزابیت کی زیادہ مقدار بنتی ہے۔

چین میں امراض قلب کی شرح کم ہے، کیونکہ وہاں کھانوں کو اسٹیمنگ (بھاپ) یا ابال کر پکایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان میں فاسد مادوں کی اتنی زیادہ مقدار پیدا نہیں ہوتی۔نیوٹریشن جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے وضاحت کی کہ 150 سینٹی گریڈ پر کھانوں کا کیمیائی ڈھانچہ تبدیل ہوتا ہے اور نوتشکیل شدہ مضر مواد بنتے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں کھانا پکانے کے لیے مٹی کے چولہے یا تندور زیادہ استعمال ہوتے ہیں، جن میں درجہ حرارت عموما 500 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، جب کہ کھانے کو جلد ابالنے میں بھی درجہ حرارت 100 سے 130 سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں بڑھتا۔

مختلف تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں پیدا ہونے والے افراد کے مقابلے میں پاکستان میں پیدا ہونے والے مردوں کا دل کے دورے سے مرنے کا 62 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے۔