جب ریاست ختم ہوجائے گی تو قتل سڑکوں پر ہوں گے، سپریم کورٹ

جب ریاست ختم ہوجائے گی تو قتل سڑکوں پر ہوں گے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس میں وزارت داخلہ اور وزارت دفاع نے اپنی رپورٹس جمع کرادی ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ نے رپورٹ کا جائزہ لیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت سمیت احتجاج والے بنیادی نکتہ نظر انداز کر رہے ہیں۔ کیا اسلام میں کوئی ڈنڈا ہے، کیا قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنا چھوڑ دیا ہے، اختلاف ہوتا ہے لیکن کیا عدالتیں بند ہو گئی ہیں۔ کل کو کوئی اور اپنا موقف منوانے کے لیے راستے بند کر دے گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ سب سے غلطی ہوتی ہے مجھ سے جو غلطی ہو اس کا اعتراف کرتا ہوں۔ کوئی غیر شرعی بات ہے تو شرعی عدالت موجود ہے۔ کیا اسلام میں دو رائے ہو سکتی ہیں۔ کنٹینر کا خرچہ بھی عوام برداشت کر رہے ہیں جب کہ ایجنسیوں پر اتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے تاہم ان کا کردار کیا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا کریں اسلام امن سے پھیلا ہے ڈنڈے سے نہیں۔


اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ معاشرے اور ذہن کو ڈنڈے سے نہیں بدل سکتے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اتحاد، ایمان، تنظیم کہیں نظر نہیں آتا جس کو مرضی گالی دے دو اگر یہ اسلامی باتیں ہیں تو مجھے قائل کریں۔ پاکستان دلائل دے کر بنا ڈنڈے کے زور پر اچھی بات بھی اچھی نہیں لگتی اور دین میں کوئی جبر نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ دشمنوں کے لیے کام بہت آسان ہو گیا وہ ہمارے گھر میں آگ لگائیں گے۔ کتنے دن سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے جب ریاست ختم ہو جائے گی تو قتل سڑکوں پر ہوں گے،ہم تو تشدد کرنے کا نہیں کہیں گے۔ آرٹیکل 5 کو ہم نے نظر انداز کر دیا ہے اور اگر آرٹیکل 5 کی پابندی نہیں کرنی تو پاکستان کی شہریت چھوڑ دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ دھرنے میں موبائل فون چل رہے ہیں اور عوام کے ٹیکس کا پیسہ دھرنے پر لگ رہا ہے۔ دھرنے کے باعث عدالتی نظام خراب ہو گیا جبکہ وکیل اور سائلین عدالت نہیں پہنچ رہے۔ دھرنے والی جماعت نے الیکشن بھی لڑا اور اس نام سے سیاسی جماعت رجسٹر کیسے ہوئی جب کہ حکومت کا پلان آف ایکشن کیا ہے۔ دھرنے والوں کو کیا حکومت چائے پیش کرتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کوشش ہے معاملہ تشدد کی طرف نہ جائے۔  

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کی عظمت پر سمجھوتا نہیں ہو گا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج پیش رفت ہونے کا امکان ہے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ گولیاں نہ برسائیں لیکن ان کی سہولیات کو بند کر دیں۔ دھرنے کے علاقے کو سیل کریں اور 17 دن سے یہ لوگ کھا پی کہاں سے رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آس پاس کے لوگ کھانا فراہم کر رہے ہیں جب کہ دھرنے میں اسلحہ سے لیس لوگ موجود ہیں۔ ربیع الاول میں کوئی ایسی چیز نہیں چاہتے جو صورتحال کو خراب کرے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلاآباد نے عدالت کو بتایا کہ 169 لوگوں کو گرفتار کیا اور 18 مقدمات درج ہوئے جب کہ راستہ بند ہونے کے باعث ایک بچہ وفات پا گیا۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ بچے کا وفات پانا معمولی بات نہیں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ دھرنے والوں کے دل میں یہ صورت سما جاتی تو وہ توبہ کرتے اور چلے جاتے۔ ایمبولینس کو راستہ دینے سے ہماری انا بڑی ہے جس کا بچہ مر گیا اس کے دل پر کیا گذر رہی ہو گی۔ پارلیمان اور عدلیہ اپنا کام اور علماء اپنا کام کریں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سوشل میڈیا کو بلاک کرنے کیلئے حکومت نے کیا اقدامات کیے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کو سوشل میڈیا کو بلاک کرنے کا کہا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے کہ عدل کا راستہ روکنا بھی گناہ ہے اور کیا عدالت کو بند کر کے گھر چلے جائیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے مسلمانوں کا اسلامی ریاست میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اداروں کو بدنام کیا جا رہا ہے کیونکہ دھرنے والے میگا فون اور کرسیاں کہاں سے لے کر آئے۔ ہم کوئی احکامات نہیں دیں گے کیونکہ حکومت کا جو کام ہے وہ خود کرے جب کہ دھرنے کے اخراجات کون برداشت کر رہا ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ باہر سے آئے۔ آئی ایس آئی کو معلوم نہیں لیکن آئی ایس آئی اتنا طاقتور ادارہ ہے لیکن اس کام کے لئے سنجیدگی دکھائیں کیونکہ اس سے اچھی رپورٹ تو میڈیا دے گا۔ اٹارنی جنرل آپ میڈیا میں سے کسی کا انتخاب کریں وہ بہتر رپورٹ دیں گے۔

عدالت نے دھرنے سے متعلق آئی بی اور آئی ایس آئی کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے حوالے سے مثبت اقدامات کر کے رپورٹ پیش کریں جب کہ آئندہ سماعت پر عدالت نے آئی بی اور آئی ایس آئی کے سینئر افسران کو بھی طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے دھرنا کیس کی سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کر دی ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں