بلوچستان میں بھی گھوسٹ سکولوں کا انکشاف

بلوچستان میں بھی گھوسٹ سکولوں کا انکشاف

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں بھی 1500گھوسٹ سکول موجود ہیں۔ ان میں 600 پرائمری سکول ہیں جبکہ مڈل اور ہائی سکولوں کی تعداد 900ہے۔ صوبے میں محکمہ تعلیم کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سکولوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے حکومت کی طرف سے ایک ارب روپے مختص کئے گئے لیکن یہ رقم خرچ نہ کی گئی اور بچوں کو پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہ آسکی۔


المیہ یہ ہے کہ بلوچستان میں پسماندگی بھی سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان بننے کے بعد کئی دہائیوں تک تعلیم کی طرف توجہ نہ دی گئی۔ اس کی بڑی اور بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہاں قبائلی نظام صدیوں سے موجودہے۔ سردار کی مرضی سے ہر کام ہوتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا رواج نہیں تھا۔ ایوب خان کے دورِ حکومت کے آخری دو تین برسوں میں تعلیم کی طرف توجہ دینے کا سلسلہ شروع ہوا لیکن تعلیم کے لئے مختص کئے جانے والے بجٹ کا بڑا حصہ بیوروکریسی اور سردار ہضم کرکے سرکاری فائلوں کا پیٹ بھردیا کرتے تھے بعد ازاں بھٹو اور جنرل ضیائ الحق کے ادوار میں تعلیمی سہولتوں پر اتنی توجہ ضرور دی گئی۔

نئے سکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور اپ گریڈیشن کا کام بھی ہوا۔ چنانچہ بلوچستان میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کے لئے بھی سکول قائم ہوئے جبکہ انٹر میڈیٹ اور بی اے کلاسز کے لئے منظوری دی گئی اور نئے کالج بھی کھولے گئے۔

یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم کو بھی اہمیت دی گئی۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بتدریج تعلیم کے لئے بجٹ میں زیادہ رقوم مختص ہوتی رہیں مگر انہیں صحیح طور پر خرچ نہیں کیا جاتا تھا۔ بیشتر رقوم خورد برد ہوتی رہیں۔

بہت کم تعلیمی ادارے دور دراز علاقوں میں قائم ہوئے۔ کوئٹہ، چمن اور دیگر چھوٹے شہروں میں موجود تعلیمی اداروں کے لئے مختص رقوم کا نصف سے زائد حصہ کرپشن کی نذر ہونے کی شکایات سننے میں آتی رہیں۔ اِس دوران بڑی تعداد میں نئے سکولوں کا قیام محض سرکاری فائلوں تک محدود رہا۔ جن علاقوں میں سرداروں اور سیاسی رہنماو¿ں کو اہمیت حاصل رہی، وہاں انہیں بھی خورد برد میں شامل ہونے کا موقع ملتا رہا۔