خیبر پختونخوا حکومت تعلیمی اداروں کی مکمل بندش کی مخالف

Khyber Pakhtunkhwa government opposes complete closure of educational institutions
کامران بنگش کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی مکمل بندش نہیں چاہتے: فائل فوٹو

پشاور: معاون خصوصی اطلاعات خیبر پختونخوا کامران بنگش نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں کی مکمل بندش کی مخالفت کرے گی۔

کامران بنگش نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں صورتحال الارمنگ نہیں ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ تمام تعلیمی اداروں کو ایک زمرے میں نہ لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا الگ طریقہ کار ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے متعلق حتمی اختیار نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے پاس ہے۔ جن تعلیمی اداروں میں زیادہ کیسز آ رہے ہیں، انہیں بند کیا جا رہا ہے۔ باقی تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تجویز ہے تعلیمی اداروں کی مکمل بندش کی بجائے جزوی بندش کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ خیبر پختونخوا کے تعلیمی ادارے پہلے ہی 6 ماہ کیلئے بند کئے جا چکے ہیں۔ اداروں کی مزید بندش طلبہ کیلئے نقصان دہ ہوگی۔ سب سے زیادہ مقدم طلبہ کی صحت اور عوام کی جان ہے۔ حالات دیکھ کر فیصلے کئے جائیں گے۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر اسد عمر کے زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا اجلاس جاری ہے جس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان، نیشنل کوآرڈینیٹر این سی او سی لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان اور سربراہ قومی ادارہ صحت میجر جنرل عامر اکرام بھی شریک ہیں۔ اجلاس میں کورونا وبا کے باعث تعلیمی اداروں سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔ این سی او سی حکام اجلاس کو کورونا کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دے رہے ہیں۔