زندگی کسی جرم کی سزا ہو جیسے

Shakeel Amjad Sadiq, Pakistan, Lahore, Naibaat Newspaper, e-paper

1999 کے بعد(یعنی صفِ اول کے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے شب خون مارنے سے اب تک) جدیدیت نے جس قدر شب و روز کو دھوکہ دیا ہے۔ شاید ہی تاریخ میں اتنی بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہوں۔ روایت، اقدار، تہذیب وکلچر اور تمدن جس قدر ملیا میٹ ہوا اور دم توڑ کر عدم کو جابسا سوچ کر دم بخود ہونے کو جی چاہتا ہے۔کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ بندہ اپنا گریبان چاک چاک کرکے جانبِ صحرا ہو لے۔کوئی ہمدرد،کوئی غمگسار،کوئی ہمزاد نہ ہوجو چار گرہ کپڑے کی قسمت پر افسوس کرے اور نہ ہی کوئی سوئے دشت جا کر تار تار دامن کو رفو کرے اور نہ ہی عمر بھر کی رفو گری کو اپنا شعار بنائے نہ ہی یہ خواہش ہو کہ کسی کو کسی کی بے نیاری کا طعنہ دے کر دل اپنی طرف مائل کرنے کا کہا جائے۔دل کی کیفیت بھی ایسی ہو کہ سنگ و خشت سے گلہ پیدا نہ ہو۔پانچویں جماعت تک ہم (بلکہ میں دسویں تک رف عمل اور ریاضی کے ہوم ورک کے لیے) سلیٹ پر جو بھی لکھتے تھے اسے زبان سے چاٹ کر صاف کر دیتے تھے اور بہت ساری گیمز مثلاً پانی لگانا اور پایا پایا کیہ پایا سلیٹ پر ہی کھیلتے تھے، یوں ہمیں کیلشیم کی کمی کبھی ہوئی ہی نہیں۔جس کے پاس سیلٹی(سیلٹ پر لکھنے والا آلہ)نہیں ہوتی تھی وہ کسی دوسرے کو کھٹا مالٹا کھلا کر اس سے لے لیتا تھا۔ پاس یا فیل۔۔۔۔ صرف یہی معلوم ہوا تھا اور اس پر ہی انتہا درجے کی خوشی ہوتی تھی کیونکہ فیصد جیسی لعنت سے ہم لا تعلق تھے۔ ٹیوشن پڑھنا اور پڑھانا ایک شرمناک بات تھی اور اکثر اساتذہ ٹیوشن کا لفظ سن کر پانی پانی ہو جاتے تھے۔ نالائق بچے استاد کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سمجھے جاتے

تھے اور اس استاد کی قابلیت کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور دیگر اساتذہ اس سے قطع تعلقی پر اتر آتے تھے۔کتابوں میں مور کا پنکھ(پر) رکھنے سے ہم ذہین، ہوشیار ہو جائیں گے۔ یہ ہمارا اعتقاد،یقین اور بھروسہ تھا۔ہمارا یہ بھی اعتقاد بھی تھا کہ مور کا پنکھ کتاب میں رکھنے سے بڑا ہو جاتا ہے سو ہم روز علی الصبح کتاب کھول کر دیکھنا اپنا فریضہ گردانتے تھے۔بستے میں کتابیں سلیقے سے جوڑ کر رکھنا سگھڑ پن اور با صلاحیت ہونے کا ثبوت تھا۔یہ کام بھی ہم روز دن میں کئی بار سر انجام دیتے تھے۔ہر سال نئی جماعت کی کتابوں اور کاپیوں پر کورز چڑھانا اور پرانی کتابوں کو آدھی قیمت پر یا بولی پر فروخت کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سالانہ تقریب ہوا کرتی تھی جو قابلِ مسرت اور قابل دید ہوا کرتی تھی۔

والدین ہمارے تعلیم کے تئیں زیادہ فکرمند نہ ہوا کرتے تھے اور نہ ہی ہماری تعلیم ان پر کوئی بوجھ تھی، سالہا سال ہمارے والدین ہمارے سکول کی طرف رخ کرنا شجرِ ممنوعہ سمجھا کرتے تھے، کیونکہ ہم میں ذہانت جو تھی۔استاد اگر سزا بھی دیتا جو گھر آکر بتانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔اگر یہ غلطی کر بیٹھتے تو الٹا ابا حضور الٹا دو تھپٹر اور رسید کر دیتے کہ سکول کا کام کیوں نہیں کیا نالائق کہیں کے۔۔۔سکول میں مار کھاتے ہوئے یا مرغا بنے ہوئے ہمارے درمیاں کبھی انا (ego) بیچ میں آنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوا تھا بلکہ انا کیا ہوتی ہے یہ بھی معلوم نہ تھا۔ بلکہ ہمارا مقولہ تھا کہ ”دو پیئاں،وسر گئیاں،صدقہ ڈھوئی دا“(دو پڑ گئی ہیں۔۔بھول گئی ہیں۔۔کمر کا صدقہ اتر گیا ہے) مار کھانا ہمارے روزمرہ زندگی کی عام سی بات تھی، مارنے والا اور مار کھانے والا دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہ ہوا کرتی تھی۔ہم اپنے والدین سے کبھی نہ کہہ سکے کہ ہمیں ان سے کتنی محبت ہے۔ نہ باپ ہمیں کہتا تھا کیونکہ I Love Youکہنا تب رائج نہ تھا اور ہمیں معلوم بھی نہ تھا،کیونکہ تب محبتیں زبان سے ادا نہیں کی جاتی تھیں بلکہ ہوا کرتی تھیں، رشتوں میں بھی کوئی لگی بندھی بات نہیں ہوا کرتی تھی، بلکہ وہ خلوص اور محبت سے سرشار ہوا کرتے تھے۔ دھوکہ دہی، فراڈ، جھوٹ، لالچ، حرص نام کی کوئی چیز نہ تھی۔دوستی کو زوال نام کے لفظ کا پتہ نہ تھا۔سچائی یہی ہے کہ ہم (ہماری عمر یا زائد عمر کے سبھی افراد) اپنی قسمت پر ہمیشہ راضی ہی رہے، ہمارا زمانہ خوش بختی کی علامت تھا، اس کا موازنہ ہم آج کی زندگی سے کر ہی نہیں سکتے۔ حوصلہ، صبر، استقلال، ایمانداری اور قناعت پسندی دنیا کی بہترین دولت سمجھی جاتی تھی۔ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں کسی کی ٹانگ نہیں کھینچی جاتی تھی۔مگر آج یہ ساری باتیں قصہ پارینہ راہ بن گئی ہیں اور خواب لگتی ہیں۔بقول زاہد جرپالوی

جگر پتا سبھی کا کھا گیا ہے

بھئی حاکم تو کچا کھا گیا ہے

اگر چھینی ہیں میں نے اس کی سانسیں

وہ بھی میرا کلیجہ کھا گیا ہے

جو حصہ بچ گیا تھا میرے گھر کا

اسے سیلابی ریلا کھا گیا ہے

نہ آدھے کی خبر پھر بھی ہیں پوچھیں

وطن کو کون پورا کھا گیا ہے

عبادت جان کے جو کر رہا تھا

وہ سجدے ایک سجدہ کھا گیا ہے

دہائی دے رہا یہ آنکھ والا

مرا آٹا تو کتا کھا گیا ہے

شکایت کر رہا مقطع بھی مجھ سے

غزل تو ساری مطلع کھا گیا ہے

بچا تھا ایک لقمہ جو ٹفن میں

اسے زاہد کمینہ کھا گیا ہے