چھاؤنی کے تعلیمی ادارے کدھر جائیں؟

Sajid Hussain Malik, Pakistan, Lahore, Naibaat Newspaper, e-paper

ہمارے ملک میں تعلیم وتعلم کی حالت پہلے ہی پتلی ہے۔ کم و بیش اڑھائی کروڑ بچے ایسے ہیں جو سکولوں میں نہیں جاتے یا سکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔ اب ایک اور معاملہ(اگرچہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں جو ابھی سامنے آیا ہو بلکہ پچھلے تین برس سے چلا آرہا ہے) سامنے آیا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ ز کی انتظامیہ نے چھاؤنی کے رہائشی علاقوں میں واقع تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کو فائنل شوکاز نوٹس بھیج دیئے ہیں کہ ابھی تک انھوں نے اپنے تعلیمی اداروں کو رہائشی علاقوں سے کسی اور جگہ پر منتقل کیوں نہیں کیا ہے یا ان کو بند کیوں نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کے خلا ف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ 

اگر دیکھا جائے تو کینٹ بورڈز کی انتظامیہ ایسے نوٹس بھجوانے میں شاید قصور وار نہیں ہے یا دوسرے لفظوں میں حق بجانب ہے کہ اس کی طرف سے یہ نوٹس سپریم کورٹ کے تقریباً تین سال قبل جاری ایک حکم نامے کی روشنی میں دیئے گئے ہیں۔ جس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ چھاؤنی کے رہائشی علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنے یا چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ بلاشبہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ اس کے فیصلے یا حکم نامے کے خلاف نہ تو اپیل کی جا سکتی ہے نہ اسے رد کیا جا سکتا ہے۔ گویا سپریم کورٹ کا جاری کردہ حکم نامہ یا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور اس سے سرمو انحراف کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تعلیمی اداروں کی چھاؤنی کے رہائشی علاقوں سے منتقلی یا بندش کا فیصلہ بھی یقینا اسی زمرے میں آتا ہے۔ تاہم کچھ پہلو ایسے ہیں جن کو سامنے رکھ کر اس پر غور کیا جا سکتا ہے اور بیچ کی کوئی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ 

پہلی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ آرڈر کینٹ بورڈزکے رہائشی علاقوں میں قائم پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر لاگو ہو تا ہے جبکہ کینٹ بورڈ کے کمرشل ایریا میں قائم تعلیمی اداروں کو اس حکم نامے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اسی طرح کینٹ بورڈز کے رہائشی علاقوں میں قائم سرکاری تعلیمی ادارے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ گویا بندش یا منتقلی کی تلوار کچھ تعلیمی اداروں پر لٹک رہی ہے تو کچھ تعلیمی ادارے 

اس سے بچے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ رہائشی علاقوں اور کمرشل ایریاز کی تخصیص بھی مبہم ہے۔ کچھ عمارات رہائشی مقاصد کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں اور کچھ ہی عرصہ بعد ان کا کمرشل استعمال شروع کر دیا جاتا ہے۔ گھروں کے پورچ، بیٹھکوں یا بغلی کمروں میں عام طور پر کریانے یا دودھ دہی کی دکانیں یا درزی خانے وغیرہ قائم کر دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے بڑے کلینک بھی رہائشی علاقوں میں بنے ہوتے ہیں۔ کیا ان پر کمرشل لیبل نہیں لگایا جا سکتا؟ ان کا حوالہ دینے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان کو کمرشل قرار دے کر رہائشی علاقوں سے نکال باہر کیا جائے یا بند کر دیا جائے۔ اس سے صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ رہائشی اور کمرشل کی تخصیص پوری طرح واضح نہیں ہے۔ 

خیر اس سے ہٹ کر یہ بات بھی اہم ہے کہ کینٹ ایریاز کے علاوہ دیگر شہری آبادیوں کے رہائشی علاقوں میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے قائم نہیں ہیں؟ اگر وہاں تعلیمی ادارے قائم ہیں اور انہیں بند کرنے یا دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کے احکامات نہیں دیئے گئے ہیں تو صرف کینٹ کے رہائشی علاقوں میں ہی قائم تعلیمی اداروں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کرنا کہاں تک جائزہے۔ یقینا اس کو حق بجانب قرار دینا آسان نہیں ہے۔ چلئے مان لیا کہ کینٹ بورڈز کی انتظامیہ سپریم کورٹ کے حکم نامے کی روشنی میں یہ سب کچھ کر رہی ہے اوراسے اس بات کا حق بھی پہنچتا ہے کہ وہ کینٹ بورڈ رولز 1924کے تحت ضروری کارروائی بھی کرے۔ لیکن اس سے ہٹ کر اس معاملہ کا ایک انسانی اور اس سے بھی بڑھ کر ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ کینٹ کے رہائشی علاقوں کے یہ تعلیمی ادارے اگر بند کر دیئے جاتے ہیں یا ان کو دیگر جگہوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے تو جتنا تعلیمی ہرج ہوگا اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ بچے، بچیاں یا ان کے والدین عام طور پر اپنے گھروں کے قریب تعلیمی اداروں یا ان تعلیمی اداروں میں جہاں انہیں آنے جانے کی آسانی ہوتی ہے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب گھروں یا قریب واقع تعلیمی ادارے بند ہو جاتے ہیں تو پھر لا محالہ کتنے ہی بچے، بچیاں تعلیمی اداروں میں جانے کے بجائے گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس طرح ملک میں پہلے ہی اڑھائی کروڑ بچے جو سکولوں میں نہیں جارہے ہیں لازمی طور پر ان کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ پھر یہ پہلو بھی محل نظر ہے کہ چھوٹے سکولوں میں جو کمرشل عمارات میں قائم نہیں ہیں ان کی فیسیں وغیرہ بھی مقابلتاً کم ہیں۔ ان کے کمرشل عمارات میں منتقلی کی صورت میں یہ نتیجہ ضرور سامنے آئے گا کہ ان کی فیسوں میں اضافہ ہو جائے گا اور والدین کو ناروا بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

اسی طرح اور بھی بے شمار مسائل ہیں جو ان تعلیمی اداروں کی منتقلی یا ان کی بندش کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں کیا اس حقیقت کو جھٹلایا جا سکتا ہے کہ تعلیم کی سہولیات مہیا کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے کیا سرکاری سطح پر عوام کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اتنے تعلیمی ادارے قائم ہیں جو معیاری تعلیم مہیا کر رہے ہوں یقینا ایسا نہیں ہے۔ اس ضمن میں نجی شعبے کا بڑا اہم کردار ہے۔ اگر ہم نجی شعبے کو کسی حکم نامے کی آڑ میں یہ کردار ادا کرنے سے روک دینگے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنی نئی نسل کو حصول تعلیم سے دور رکھ کر خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہونگے۔ یہاں سپریم کورٹ کے حکم نامے پر تنقید مقصود نہیں نہ ہی میری یہ مجال ہے۔ لیکن اس حکم نامے کے تحت چھاؤنی کے رہائشی علاقوں میں تعلیمی اداروں کے قائم کرنے یا چلانے پر پابندی لاگو کی گئی ہے جبکہ دوسرے شہری علاقوں میں رہائشی آبادیوں میں اس طرح کی کوئی پابند ی نہیں ہے کیا اس سے تفریق کی بوُ نہیں آتی یا کیا اس سے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں؟ ہمیں اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔ کاش میڈیا کے حلقے اور ٹی وی چینلز بھی اس اہم معاملے کو اپنی ٹاک شوز کا موضوع بنائیں اور عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے نوٹس میں یہ معاملہ لایا جائے کہ وہ اس پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے کوئی سوموٹو ایکشن لیں اور اگر سپریم کورٹ کے تین سال قبل جاری حکم نامے پر نظر ثانی کی کوئی گنجائش ہو تو اُس کوبراہ کرم ضرور اختیار کریں۔ وزیر تعلیم، وزیراعظم اور صدر مملکت بھی اس اہم معاملے کو ضرور دیکھیں اور نئی نسل کی تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹیں سامنے آرہی ہیں تو انہیں دور کریں۔ اس سے بہتوں کابھلا ہوگا۔